مال اور امور صارفین محکموں کے افسران کیخلاف چارج شیٹ دائر
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//اینٹی کرپشن بیوروجموں نے دو مقدمات میںخصوصی جج اینٹی کرپشن جموں کی عدالت میں چارج شیٹس پیش کیں۔ یہ مقدمات بالترتیب نگروٹہ میں واقع بڑی مقدار میں سرکاری اراضی کی غیر قانونی منتقلی اور گاؤں کھنڈوال، جموں میں غیر موجود بی پی ایل/اے اے وائی خاندانوں کو راشن جاری کرنے سے متعلق ہیں۔بیان کے مطابق، ایف آئی آر نمبر 09/2020زیر دفعہ 5(1)(d) بمعہ 5(2) جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ 2006 اور دفعہ 120-B آر پی سی کے تحت نگروٹہ تحصیل کے دیہات جگتی، نگروٹہ، ڈنگ، مڑھ اور سِتنی میں واقع سرکاری اراضی کی غیر قانونی منتقلی کے معاملے میں چارج شیٹ خصوصی جج اینٹی کرپشن جموں کی عدالت میں پیش کی گئی۔ یہ منتقلی سرکاری احکامات نمبر LB-6/C سنہ 1958اور S-432سنہ 1966کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی۔ اس معاملے میں ملزمان میں راجیش کمار (سابق انچارج تحصیلدار نگروٹہ)، ریاض احمد (سابق انچارج پٹواری حلقہ جگتی نگروٹہ) اور دیگر 31مستفیدین شامل ہیں۔یہ معاملہ سال 2016سے 2018کے دوران کا ہے، جس میں اس وقت کے تحصیلدار نگروٹہ راجیش کمار اور پٹواری حلقہ جگتی ریاض احمد نے مجرمانہ سازش کے تحت غیر قانونی قابضین کو سرکاری اراضی پر ملکیتی حقوق عطا کیے۔ اے سی بی جموں کی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم سرکاری ملازمین نے غیر قانونی قابضین/مستفیدین کے ساتھ ملی بھگت کر کے سرکاری نوٹیفکیشن LB-6/C سنہ 1958اور S-432سنہ 1966کا غلط استعمال کیا اور ان میں درج لازمی شرائط و حفاظتی ضوابط کی دانستہ خلاف ورزی کی۔ اس کے نتیجے میں 196کنال اور 10مرلہ سرکاری اراضی 18غیر مجاز انتقالات کے ذریعے نجی افراد کو منتقل کی گئی، جس کی موجودہ مارکیٹ قیمت 22کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان غیر قانونی اقدامات سے ریاستی خزانے کو بھاری نقصان اور مستفیدین کو ناجائز فائدہ پہنچا، جس سے حکومت قیمتی سرکاری اراضی سے محروم ہوئی۔ مکمل اور جامع تحقیقات کے بعد، اینٹی کرپشن بیورو نے ملزمان کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے ٹھوس شواہد پائے اور چارج شیٹ خصوصی جج اینٹی کرپشن جموں کی عدالت میں پیش کی گئی، جسے بعد ازاں عدالتی فیصلے کے لیےایڈیشنل سیشن جج اینٹی کرپشن جموں کی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔اسی طرح ایف آئی آر نمبر 16/2011زیر دفعہ 5(1)(c)(d) بمعہ 5(2) جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ 2006اور دفعات 409، 120-B آر پی سی کے تحت، گاؤں کھنڈوال، جموں میں 188غیر موجود بی پی ایل/اے اے وائی خاندانوں کو راشن جاری کرنے کے معاملے میں بھی چارج شیٹ خصوصی جج اینٹی کرپشن جموں کی عدالت میں پیش کی گئی۔ اس معاملے میں ملزمان میں بھجن سنگھ (سابق تحصیل سپلائی آفیسر، جموں)، معراج الدین (سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر، سی اے اینڈ پی ڈی، دیہی جموں)، محمد رشید (سابق پٹواری حلقہ کھنڈوال)، پردیپ سنگھ (سابق سرپنچ پنچایت کھنڈوال)، دھروپ سنگھ (سابق پنچ گاؤں کھنڈوال)، ہربنس لال (سابق راشن ڈیلر پنچایت کھنڈوال،فوت شدہ)، بل بیر سنگھ (سابق پنچ،فوت شدہ)، رومیش سنگھ (سابق نمبر دار، فوت شدہ) اور امی چند (سابق چوکیدار، فوت شدہ) شامل ہیں۔یہ مقدمہ 10 اگست 2011کو پولیس اسٹیشن وی او جے (موجودہ اے سی بی) میں درج کیا گیا تھا، جو اس بیورو کی جانب سے کی گئی ایک جانچ کی بنیاد پر تھا۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ سال 2004میں اس وقت کے تحصیل سپلائی آفیسر بھجن سنگھ اور دیگر نے ہربنس لال اور دیگر افراد کے ساتھ ملی بھگت کر کے، بغیر مناسب تصدیق کے، غیر موجود بی پی ایل/اے اے وائی خاندانوں پر مشتمل فہرست کی بنیاد پر ہربنس لال کی راشن ڈیلر کے طور پر تقرری کی سفارش اعلیٰ افسران کو کی۔ مزید جانچ سے معلوم ہوا کہ سال 2004سے 2010کے دوران اسی فہرست کی بنیاد پر سی اے اینڈ پی ڈی محکمہ کے افسران و اہلکاروں نے بغیر تصدیق کے کھنڈوال گاؤں کے 165بی پی ایل اور 66اے اے وائی خاندانوں کے نام پر سبسڈی شدہ راشن جاری کیا، جبکہ جانچ کے دوران ان میں سے صرف 26بی پی ایل اور 17اے اے وائی خاندان ہی حقیقی پائے گئے۔ اس طرح 139بی پی ایل اور 49اے اے وائی، یعنی مجموعی طور پر 188خاندان غیر موجود پائے گئے۔اس عرصے کے دوران تقریباً 1852.19کوئنٹل گندم/آٹا اور 1564.72کوئنٹل چاول (بی پی ایل کوٹہ کے تحت)، نیز 586کوئنٹل گندم/آٹا اور 601.6کوئنٹل چاول (اے اے وائی زمرے کے تحت) غیر موجود خاندانوں کے نام پر جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ 2007سے 2010کے دوران تقریباً 498.05کوئنٹل اضافی چینی بھی مذکورہ راشن ڈیلر کو جاری کی گئی۔ اس طرح بھجن سنگھ (سابق ٹی ایس او) اور محکمہ سی اے اینڈ پی ڈی کے دیگر افسران و اہلکاروں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور راشن ڈیلر ہربنس لال و دیگر کے ساتھ سازش کے تحت بی پی ایل/اے اے وائی خاندانوں کے لیے مختص راشن میں خرد برد کی، جس سے ریاستی خزانے کو 30,33,326.05روپے کا بھاری نقصان پہنچا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد، مذکورہ ملزمان کے خلاف عدالتی فیصلے کے لیے چارج شیٹ پیش کر دی گئی۔
تین کروڑ روپیے کے جعلی کشمیر بلیو سیفائر کیس میں فرد جرم عائد
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں پولیس نے جعلی کشمیر بلیو سیفائر فروخت کرنے کے نام پر تین کروڑ روپیے کی دھوکہ دہی اور فراڈ کے ایک ہائی پروفائل کیس میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔پولیس کے مطابق اس کیس میں جموں وکشمیر پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت 6ملزمان شامل ہیں جن پر حیدر آباد کے ایک تاجر سے جعلی کشمیر بلیو سیفائر فروخت کرنے کے بہانے تین کروڑ روپیے کی خطیر رقم ہتھیانے کا الزام ہے۔ملزموں میں محمد ریاض ولد رحیم علی ساکن گردن بالا راجوری حال چنور جموں، محمد تاج خان ولد حاجی جمہ خان ساکن سرنکوٹ پونچھ حال ترکوٹہ نگر جموں، شوکت حسین ولد رحیم علی ساکن گردن بالا راجوری، محمد شفیع ولد عبداللہ ساکن بھدرواہ ڈوڈہ حال بٹھنڈی جموں، کلویندر سنگھ ولد بچھن سنگھ ساکن وجے پور سانبہ حال ماڈل ٹاوئن گنگیال جموں اور ایس آئی محمد مقبول ولد غلام نبی ساکن سری نگر حال اپر ٹھاٹھر بن تالاب جموں شامل ہیں۔ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ قبل ازیں جموں پولیس نے اس کیس میں شکایت کنندہ میر فراست علی خان کو 62 لاکھ روپیے بر آمد کرکے واپس دلائے تھے جو اس دھوکہ دہی کا شکار ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں ایک بڑے پیمانے کی مجرمانہ سازش کا انکشاف ہوا جس میں ملزم محمد تاج خان خود کو جموں کا راجہ ظاہر کر رہا تھا جبکہ دیگر ملزمان اس کے ایجنٹ بن کر راجہ جموں کے خزانے سے نایاب کشمیر بلیو سیفائر فروخت کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے گھر کی تلاشی کے دوران ملزمان محمد تاج خان، محمد شفیع اور محمد مقبول کے قبضے سے متعدد جعلی قیمتی پتھر اور دیگر جعلی اشیا ضبط کیں۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ یہ ایف آئی آر 15 دسمبر 2024کو پولیس اسٹیشن باہو فورٹ میں درج کی گئی تھی اور تحقیقات ایس ڈی پی او سٹی ویسٹ جموں کے سپرد کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے اس کیس کو بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام تک پہنچانے پر جموں پولیس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پولیس نے اس جرم کی رقم سے حاصل کی گئی جائیداد کی نشاندہی اور ثبوت بھی پیش کئے ہیں اور ملزمان کی جانب سے دھوکہ دہی کی رقم سے خریدی گئی جائیداد کی ضبطی کے لئے بی این ایس ایس کی دفعہ 107کے تحت ریلوے کورٹ جموں میں درخواست دائر کی گئی ہے جو انصاف کے نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔