سرینگر //گزشتہ کئی دنوں سے جاری شدید ترین گرمی کی لہر کا زور کل شام اگر چہ رم جم بارشوں سے ٹوٹ گیا لیکن تیز آندھی اور قہر انگیز ژالہ باری کے نتیجے میں کھیت کھلیانوں میں بھاری پیمانے پر تباہی مچ گئی ۔ شمال و جنوب میں تیز آندھی کی وجہ سے کئی علاقوں میںمکانوں کے چھت اْڑا گئے اور درخت اکھڑنے کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ کو دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا، جو جمعرات کے34.7 اور بدھ کے 34.8درجہ حرارت سے کم تھا۔محکمہ موسمیات نے 11اور 12جون کو دور دور تک بارشوں کی پیش گوئی کی تھی۔سہ پہر بعد کالے بادل چھا گئے جس کیساتھ ہی شوپیاں ، گلمرگ ، اوڑی ، ٹنگڈار اور جنوبی کشمیر کے کچھ ایک اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوئیں۔ جموں وکشمیر میں11برسوں کے دوران 34ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت جون کے مہینے میں کبھی کبھارہی ہوا ہے ۔سال2018میں 3جون کو درجہ حرارت 35ڈگری تک جا پہنچا تھا ۔جمعہ کی شام موسم نے کروٹ لی ، جسکے ساتھ ہی سرینگر سمیت وادی کے کچھ ایک علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوئیں۔شہر کے سیول لائنز علاقوں بشمول راولپورہ، صنعت نگر، حیدر پورہ، نٹی پورہ ،چھانہ پورہ ، نوگام سمیت کئی علاقوں میں تیز ہوائیں چلیں۔ نٹی پورہ سے اطلاع ہے کہ وہاں تیز ہوائوں کی وجہ سے چھتوں کو نقصان ہوا جبکہ درختوں کے گرنے کی خبریں بھی آئیں ۔بارہمولہ سے فیاض بخاری نے اطلاع دی ہے کہ بارہمولہ اور اسکے آس پاس علاقوں میں بڑے پیمانے پر تیز آندھی نے تباہی مچائی۔سڑکوں پر درخت اکھڑگئے اور بجلی کے کھمبے گر گئے۔ تیز آندھی کی وجہ سے پٹن میں شاہراہ پر دو درخت گر گئے جن میں سے ایک ویگنار زیر نمبرJK05E/0519پر گرا جس کی وجہ سے گاڑی کوشدید نقصان پہنچا ۔ خوش قسمتی سے کار سڑک کے کنارے کھڑی تھی اور خالی تھی۔ بونیار ، ناروائو ،حاجی بل اور پیرنیا میں 3منٹ تک ہونے والی قہر انگیز ژالہ باری کے نتیجے میں کھڑی فضلوں ، میوہ باغات اور دھان کی پنیری سمیت سبزیوں کو نقصان ہوا ۔ ضلع کے رفیع آباد ، سوپور ، پٹن کے کئی علاقوں میں بھی قہر انگیز ژالہ باری ہوئی ہے ۔اوڑی سمیت شمال و جنوب میںکئی مقامات پر ژالہ باری کی وجہ سے میوہ جات مکمل طور پر تباہ و برباد ہو کر رہ گئے جبکہ سبزیوں کی کیاریاں ، سرسوں اور دوسری فصلیں مکمل طور پر تباہ و ہو کر رہ گئیں۔ادھر ۔جنوبی کشمیر کے درجنوں علاقوں میں تیز آندھی ، بادل پھٹنے اور بجلی کڑکنے کے واقعات رونما ہونے کے بعد لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے ۔ پلوامہ قصبہ میں طوفانی ہوائیں چلنے کے نتیجے میں ڈگری کالج کے نزدیک قائم شاپنک کمپلیکس کی چھٹ اڑ گئی اور ضلع میں میوہ کے درختوں کو بھی تیز ہوائوں کی وجہ سے نقصان پہنچا ۔شوپیاں سے شاہد ٹاک کے مطابق ضلع کے کیلر، ناگہ شرن،پہنو،زینہ پورہ، سعدپورہ اور دیگرملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں اور بارشوں سے مکانات اور میوہ باغات کو کافی نقصان پہنچا جبکہ درجنوں رہائشی مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں۔ کئی علاقوں میں درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور بجلی کے کھمبوں اور ترسیلی لائنوں کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے متعدد علاقوںمیں بجلی سپلائی بھی متاثر ہوئی ۔ کولگام کے یاری پورہ ، کاترسو،سنگس علاقے کے متعدد دیہات میں تیز ہوائوں کے چلنے کے نتیجے میں درخت جڑوں سے اکھڑ گئے جبکہ مکانوں اور دکانوں کی چھتیں بھی اڑ گئیں۔