عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے آر ایس پٹھانیا نے جمعہ کے روز کہا کہ اگر نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ استعفیٰ دیں، تو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر انہیں کابینہ سے باہر کریں۔میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پٹھانیہ نے کہا کہ حکمران اتحاد کے اراکین اسمبلی کی جانب سے نائب وزیراعلیٰ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، لہٰذا وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ انہیں کابینہ سے ہٹادیں ۔انہوں نے کہا، ’’اگر ان میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ استعفیٰ دیں تو حکومت اور وزیرِ اعلیٰ کو چاہیے کہ انہیں کابینہ سے باہر نکال دیں۔‘‘
پٹھانیہ نے محکمہ آر اینڈ بی میں ’’سنگین بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں‘‘ کا الزام عائد کیا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ محکمہ مائننگ ’’بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے‘‘ اور ’’غیر قانونی کان کنی کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’آپ نے ندی نالوں کو خالی کر دیا ہے۔ جب سیلابی پانی آتا ہے تو وہ ہمارے گھروں میں اس طرح داخل ہوتا ہے جیسے لوہے کی پلیٹ پر پانی گرتا ہو۔‘‘
این سی کی حالیہ داچھی گام میٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے پٹھانیہ نے اسے ’’محض ایک تفریحی ملاقات‘‘ قرار دیا، جس کا مقصد عوام اور میڈیا کی توجہ ہٹانا ہے۔پٹھانیہ نے این سی حکومت پر انتخابی وعدوں کے حوالے سے ’’دھوکہ، جھوٹ اور فریب‘‘ کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے نیشنل کانفرنس کو بڑی امیدوں کے ساتھ واضح مینڈیٹ دیا تھا، لیکن حکومت ایک بھی وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے حکومت پر ڈیلی ویجروں کو مستقل نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ پٹھانیہ نے کہا، ’’پہلے اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ کہتے ہیں کہ کمیٹی بنائیں گے، دوسرے اجلاس میں کہتے ہیں کہ کمیٹی کام کر رہی ہے، اور ہر اجلاس میں یہی کہتے رہیں گے، یہاں تک کہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے۔‘‘انہوں نے 2008 سے 2014 کے دوران قائم کی گئی کابینہ سب کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس کی رپورٹ ’’کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی۔‘‘
پٹھانیہ نے کہا کہ ’’تاریخی‘‘ مرکزی تعاون کے باوجود جموں و کشمیر حکومت گزشتہ 19 ماہ میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’روزمرہ حکمرانی متاثر ہو رہی ہے اور حکومت کا وجود تک محسوس نہیں ہوتا۔ یہ حکومت خود ایک کنفیوژن ہے، خود ایک تنازعہ ہے، ہر روز ایک نیا ڈرامہ اور نئی پہیلی سامنے آتی ہے۔‘‘بی جے پی رہنما نے جموں و کشمیر میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں اس کا کھلے دل سے خیر مقدم کرنا چاہیے۔ ہمیں جامع، فول پروف اور دھاندلی سے پاک انتخابی فہرستوں کی ضرورت ہے۔‘‘
اگر نائب وزیر اعلیٰ میں خود مستعفی ہونے کی اخلاقی جرات نہیں تو وزیر اعلیٰ کارروائی کریں : آر ایس پٹھانیہ