یو این آئی
انقرہ//ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے شامی شہریوں کی اپنے وطن کو واپسی کے لیے منصوبوں پر کام کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دس لاکھ مہاجرین کی وطن واپسی کی منصوبہ بندی کی ہے ۔
صدر ایردوان نے ترکیہ ریڈیو ، ٹیلی ویژن کارپوریشن کی مشترکہ نشریات میں ایجنڈے کے حوالے سے سوالات کے جواب دیئے ۔ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ ہم، اپنے ملک میں خانہ جنگی سے راہ ِ فرار اختیار کرتے ہوئے ترکیہ میں پناہ لینے والے شامیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہاکہ شمالی شام میں محفوظ واپسی کے لیے بریکیٹ ہاؤسز تیار کیے گئے ہیں، اور اب تک 560,000 شامی اپنے وطن کو لوٹ جا چکے ہیں، “ہم نے اسوقت 10 لاکھ پناہ گزینوں کی بھی وہاں واپسی کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے ۔ یقیناً یہ وقت کے ساتھ ساتھ ہو گا۔ ہم محفوظ ماحول میں شامیوں کی ان کے ممالک میں واپسی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے ۔
صدر نے بتایا کہ ہماری سرحدوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے۔ترکیہ کی سرحدوں کی ہمیشہ سے کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔شمالی شام میں ترک فوجیوں کے وجود کے جاری رہنے کا اشارہ دینے والے ایردوان نے کہا کہ ان فوجیوں کی واپسی کی صورت میں ہم محفوظ نہیں ہوں گے اور نقل مکانی میں اضافہ ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے کے خلاف کامیابی سے جدوجہد جاری ہے ، “ہم اندرون اور بیرون ملک پی کے کے اور اس سے وابستہ تنظیموں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے پر پُرعزم ہیں۔ ہم ان کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گے ۔
اردگان کی ترکش ہاوس پر حملے کی مذمت
یو این آئی
انقرہ//ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے امریکہ کے شہر نیویارک میں ترکش ہاوس پر حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔نیو یارک میں ترکش ہاوس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ بدقسمتی سے ، ان (مغربی ممالک) نے راستہ صاف کرکے قاتلوں کی مدد کی۔ جب مسلمانوں اور ترکوں کی جان کی بات آتی ہے تو انہوں نے ظلم و ستم کو روکنے کے بجائے ہمیشہ خاموشی اختیار کیے رکھی ہے ۔
یورپ میں، پی کے کے نے کاروبار کو مقصان پہنچایا اور ووٹروں پر حملے کیے ۔ یہ یہاں تک ہی نہیں رکے ہیں بلکہ انہوں نے امریکہ میں اقوام متحدہ کے سامنے ترک ہاوس پر حملہ کیا، اس کی کھڑکیاں توڑ دی ہیں۔صدر ایردوان نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ترکش ہاوس امریکہ میں ترکوں کی امانت ہے ۔ آپ کو اس پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں حملے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے حملے کو “قابل نفرت” قرار دیتے ہوئے مجرموں کی جلد از جلد شناخت کرنے کی امید ظاہر کی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے بھی ترکش ہاوس کے خلاف توڑ پھوڑ کی مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ ایک مجرمانہ جرم ہے ۔ملر نے کہا کہ محکمہ خارجہ کی ڈپلومیٹک سیکیورٹی سروس تحقیقات کے حصے کے طور پر مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے ۔حملے کے بعدترکش ہاوس کا دورہ کرنے والے نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس واقعے کا جائزہ لیں گے ۔اقوام متحدہ (یو این) نے بھی امریکہ میں ترکش ہاوس پر حملے کی مذمت کی ہے ۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے اس موضوع پر ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تمام سفارتی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔
اور نیویارک میں متعلقہ حکام کی طرف سے مکمل تحقیقات کے منتظر ہیں۔