راجوری میں 2فوت ،2ہنوز ملنا باقی،5زخمی زیر علاج
سمت بھارگو+حسین محتشم +رمیش کیسر
راجوری/پونچھ//راجوری اور پونچھ اضلاع میں گزشتہ شب ہونے والی موسلادھار بارشوں کے بعد اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سرکاری و ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں اضلاع میں اب تک 11 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 8 افراد لاپتہ ہیں اور 5 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ کئی مکانات، دکانیں، سڑکیں، پل، گاڑیاں اور عوامی بنیادی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔پونچھ میں گزشتہ شب ہونے والی موسلادھار بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے متعدد واقعات نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اب تک ضلع میں 9 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 6 افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پولیس، ایس ڈی آر ایف، فوج اور مقامی رضاکار متاثرہ علاقوں میں مسلسل ریسکیو اور سرچ آپریشن چلا رہے ہیں۔حکام کے مطابق تحصیل سرنکوٹ کے گاؤں دھندک کے قریب دریائے سرن سے برآمد ہونے والی خاتون کی لاش کی شناخت منیرا بیگم (25) دختر عبدالرشید، ساکن سنگلہ سرنکوٹ کے طور پر ہوئی ہے۔ اسی طرح مرحوٹ نالہ سے 18 سالہ ارم دختر عبدالمجید، ساکن مرہوٹ سرنکوٹ کی لاش برآمد کی گئی۔سرنکوٹ کے سنگلانی بفلیاز علاقے میں مکان منہدم ہونے سے ملبے تلے دبے شہزیب احمد کی لاش بھی نکال لی گئی۔ ادھر نونہ بندی، تحصیل حویلی میں مکان گرنے کے نتیجے میں 28 سالہ نازیہ کوثر زوجہ محمد حفیظ جاں بحق ہو گئیں۔لوئر مڑھ، تحصیل سرنکوٹ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک مکان ملبے تلے دب گیا، جس میں دو سالہ صوفیان ولد یاسر اقبال، بانو بی زوجہ محمد حسین اور 25 سالہ خالدہ کوثر زوجہ یاور اقبال موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔حکام کے مطابق ضلع کے مختلف متاثرہ علاقوں سے اب تک 9 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 7 افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ 2 لاشوں کی شناخت ابھی باقی ہے۔ سرچ آپریشن جاری ہے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔سیلاب اور مکان گرنے کے واقعات میں زخمی ہونے والے محمد حفیظ (36) ولد فخر دین، ریاض حفیظ (5) ولد محمد حفیظ اور مریم حفیظ (2) دختر محمد حفیظ، ساکنان نونہ بندی، اس وقت ضلع اسپتال پونچھ میں زیر علاج ہیں، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔ایس ایس پی پونچھ شفقت حسین نے بتایا کہ ضلع میں اب تک 9 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ 6 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، ایس ڈی آر ایف، فوج اور سول انتظامیہ مشترکہ طور پر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن چلا رہی ہے تاکہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل خراب موسم اور کئی علاقوں میں رابطہ منقطع ہونے کے باعث لاپتہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دریا، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں سے دور رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر انتظامیہ یا ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔ضلع راجوری میں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں مچائی۔ راجوری شہر کی جھگی بستی میں رہنے والی 50 سالہ پنکی دیوی علی الصبح تقریباً چار بجے اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ بعد ازاں ریسکیو ٹیموں نے ان کی لاش برآمد کر لی۔اسی دوران نوشہرہ کے پاٹھاگاؤں کے قریب دریا میں ایک نامعلوم شخص کی لاش ایک بڑے پتھر پر دیکھی گئی، تاہم دریا میں پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے خبر لکھے جانے تک لاش کو نکالا نہیں جا سکا تھا۔انتظامیہ کے مطابق ضلع راجوری میں دو سے تین مزید افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ان میں راجوری کے ملک مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے دو کم عمر لڑکے شامل ہیں، جبکہ جل شکتی محکمہ کا ایک ملازم، جو گزشتہ رات تھنہ منڈی کے واٹر پمپنگ اسٹیشن میں ڈیوٹی انجام دے رہا تھا، سیلابی پانی میں بہہ گیا اور تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔راجوری میں لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے دو افراد کو گورنمنٹ میڈیکل کالج و ضلع ہسپتال راجوری میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ طبی حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ضلع پونچھ میں بھی سیلاب نے شدید تباہی مچائی، جہاں مختلف علاقوں سے ہلاکتوں، لاپتہ افراد اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دونوں اضلاع کو ملا کر مرنے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 8 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف، پولیس، فوج اور مقامی رضاکار مشترکہ طور پر لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ڈپٹی کمشنر راجوری ابھشیک شرما نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی، بجلی و پانی کی فراہمی کی بحالی، ملبہ ہٹانے اور متاثرہ خاندانوں کو امداد پہنچانے کا عمل جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دریا، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں کا رخ نہ کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے یقین دلایا کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی اور نقصانات کا تفصیلی سروے مکمل ہونے کے بعد مناسب معاوضے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔