بیلہ بس سٹینڈ پر گاڑیوں کا ڈھیر، کئی گاڑیاں لاپتہ، نقصانات کا مکمل تخمینہ سروے کے بعد ہی ممکن
سمت بھارگو
راجوری//راجوری اور پونچھ اضلاع میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب نے جہاں گھروں، دکانوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، وہیں سینکڑوں گاڑیاں بھی اس قدرتی آفت کی زد میں آگئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں اضلاع میں بڑی تعداد میں گاڑیاں یا تو مکمل طور پر تباہ ہوگئیں یا تیز سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔راجوری کے بیلہ مرکزی بس اسٹینڈ میں سیلابی پانی نے سب سے زیادہ تباہی مچائی، جہاں تقریباً 40 کاریں اور دیگر گاڑیاں پانی کے شدید بہاؤ کے باعث ایک ہی کونے میں جمع ہوگئیں۔ سیلابی ریلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑیوں کو کئی میٹر تک گھسیٹ کر ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر کر دیا گیا، جس سے بیشتر گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق بس اسٹینڈ میں کھڑی درجنوں دیگر گاڑیاں تاحال لاپتہ ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئی ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلاب کے دوران کئی گاڑیاں پانی کے تیز بہاؤ میں بہتی ہوئی دیکھی گئیں، جبکہ بعض گاڑیاں راجوری شہر سے نیچے دریا کے کناروں پر پھنسی ہوئی بھی دیکھی گئی ہیں۔ادھر ضلع پونچھ میں بھی سیلاب نے گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک درجن گاڑیاں یا تو مکمل طور پر تباہ ہوگئیں یا سیلابی پانی میں بہہ گئیں۔ کئی گاڑیاں کیچڑ اور ملبے تلے دب گئی ہیں، جس کے باعث ان کی بازیابی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ گاڑیوں کی درست تعداد اور مجموعی مالی نقصان کا اندازہ فوری طور پر لگانا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نقصانات کا مکمل تخمینہ ایک تفصیلی سروے اور جائزے کے بعد ہی سامنے آئے گا، کیونکہ متعدد علاقے اب بھی پانی اور ملبے کی لپیٹ میں ہیں۔انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، جبکہ لاپتہ گاڑیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ مقامات پر غیر ضروری آمدورفت سے گریز کریں اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔