سیلابی علاقوں میں تجاوزات، غیر مجاز تعمیرات اور ماحولیاتی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ
محتشم احتشام
پونچھ//راجوری اور پونچھ کے سرحدی اضلاع میں حالیہ تباہ کن بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے جہاں انسانی جان و مال کو بھاری نقصان پہنچایا، وہیں اس سانحے نے برسوں سے نظر انداز کیے جانے والے ماحولیاتی تحفظ، تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کے معاملے کو ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے عوام کا کہنا ہے کہ اگر ندی نالوں، سیلابی گزرگاہوں اور سرکاری اراضی پر ہونے والی مبینہ تجاوزات کے خلاف بروقت کارروائی کی جاتی تو تباہی کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا تھا۔مقامی شہریوں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے ماہرینِ ماحولیات، سماجی کارکنان اور عوام سیلابی علاقوں میں تعمیرات اور تجاوزات کے خطرات سے مسلسل آگاہ کرتے رہے، مگر متعلقہ محکموں کی جانب سے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث صورتحال ہر سال مزید سنگین ہوتی گئی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ 2014 کے ہولناک سیلاب کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت اور انتظامیہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرے گی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق دریا، ندی نالوں اور سیلابی میدانوں کے قریب تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں حالیہ بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر ایسے حساس مقامات پر تعمیرات کی اجازت کیسے دی گئی؟ کیا ان عمارتوں کے لیے لازمی این او سی (NOC)، زمین کے استعمال کی منظوری اور دیگر قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں؟ ان کا مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افسران اور متعلقہ افراد کا تعین کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی عوام نے قدرتی آفت کے دوران ایس ڈی آر ایف، پولیس، فوج، سول ڈیفنس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور مقامی رضاکاروں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر متعدد افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا اور قیمتی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔شہریوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ قدرتی آفات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں، تاہم بہتر منصوبہ بندی، ماحول دوست ترقی، ندی نالوں اور سیلابی راستوں کا تحفظ، تجاوزات کے خلاف بروقت کارروائی اور تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے جانی و مالی نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔راجوری اور پونچھ کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں اضلاع میں ندی نالوں، دریا کناروں، سیلابی میدانوں اور دیگر حساس مقامات پر قائم تمام تعمیرات کا ضلع وار سروے کرایا جائے، قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی بھی سطح پر قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوام کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک سخت انتباہ ہے۔ اگر ماحولیات کے تحفظ، لینڈ یوز قوانین اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اصولوں پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو ایسے حادثات آئندہ بھی قیمتی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں، ذمہ داری کا تعین ہو اور آئندہ نسلوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔