منڈی//ریاست جموں و کشمیر کے سابقہ وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بھی وادی امن نہیں لوٹا بلکہ حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور وادی میں روزانہ بے گناہ لوگوں کو ٹارگیٹ کلینگ کے ذریعہ مارا جا رہا ہے۔ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے صدر مقام پر پارٹی کی جانب سے منعقدہ ایک جلسے کے دوران انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے جب جموں کشمیر میں دفعہ 370 اور35 اے کو منسوخ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان دفعات کے ہونے کی وجہ سے جموں کشمیر امن اور ترقی نہیں ہو رہی ہے مگر ان دفعات کو منسوخ کرنے کے بعد بھی جموں کشمیر خصوصی طور پر وادی میں حالات دن بدن زیادہ کشیدہ ہو رہے ہیں اور امن کا کہیں پر کوئی بھی نشان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں ابھی بھی ملی ٹینسی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ دن بدن زیادہ ہی ہوتی جارہی ہے جبکہ اب اس کو ختم کرنا بہت مشکل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں تب تک امن قائم نہیں ہوگا جب تک مرکزی سرکار یہاں کے ہند مسلم سکھ اور عیسایوں سے انصاف نہیں کرئے گی ۔فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ جموں وکشمیر کو آزاد رکھنا چاہتے تھے لیکن پاکستانی کی غلطی کی وجہ سے مجبور ہو کر مہا راجہ کو ہندوستان کیسا تھ الحاق کرناپڑا ۔ ان کا کہنا تھا کہ الحاق اس صورت میں ہوا کے دونوں کشمیروں کے لوگوں کے درمیان رائے شماری ہوگی اور اس بات کا بھی فیصلہ ہوا کہ اقوامِ متحدہ کا سفیر آئے گا۔ اس کے ذریعہ سے ووٹنگ ہوگی مگر وہ آج تک نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ دفعہ 370 عارضی تھا ان سے میں یہ کہنا دینا چاہتا ہوں کہ یہ دفعہ عارضی کیوں تھا کیونکہ اس ریاست کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا تھا ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسلہ آج بھی اقوام متحدہ میں پڑا ہے جسے حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ بی جے پی ملک کے لوگوں کو الیکشن میں کامیابی کیلئے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کر تی ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس ایمانداری کیساتھ لوگوں کی ترجمانی کرئے گی ۔ اس موقہ پر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال اور پونچھ حویلی کے سابقہ ممبر اسمبلی اعجاز جان ودیگر پارٹی کارکن بھی موجود تھے ۔