سہیل سالم
’’بانگ سحر‘‘ میں قلبی وارداتوں کو ایسی آواز دینا کہ ’’نمود سحر ‘‘کا نور ہر طرف پھیل جائے اور ظلمات کی شب کو لفظوں کی تلوار سے مات دینے والے سنجیدہ فکر اور بے باک اسلوب رکھنے والے شاعر کا نام خاکی محمد فاروق ہے ۔گھر کے علمی و ادبی ماحول نے ان کو شعر گوئی کی طرف مائل کیا۔لڑکپن سے ہی شعر کہنا شروع کیا۔پھر اس کے بعد ان کا کلام مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہونے لگا علاؤہ ازیں خاکی صاحب نے اردو کے نامور شعراء کے کلام سے استفادہ کیا تاکہ ان کے فن میں پختگی کا عنصر نمایاں ہوجائے۔اب تک ان کئی شعری مجموعے بہ عنوان بانگ سحر،گلدستہ نعت،اور گلہائے چمن منصہ شہود پر آئے ہیں۔ ’’نمود سحر‘‘آپ کا تازہ شعری مجموعہ ہے جو کہ نعتوں ،غزلوں ،رباعیات اور نظموں پر مشتمل ہیں ۔عصر حاضر میں انسانی مساوات اتحاد و اتفاق اور آفاقی امن کے تصورات کے جو چرچے ہو رہے ہیں ۔ انسانی ترقی جو منزلیں طے کرتی نظر آرہی ہے، اس کے پس منظر میں آپؐکی اعلی شخصیت اور روشن تعلیمات کار فرما ہیں۔ آپؐ کے پیغام نے انسانی زندگی کی معاشرت، اقتصادی ،سیاست ، تاریخ اور تہذیب پر جو مثبت اور خوشگوار اثرات ڈالے ہیں۔ وہ بھی خاکی محمد فاروق کے نعتیہ کلام میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
نبی کو ہے حاصل مقام امامت
غلامی ہے ان کی سعادت سعادت
جو لیتا ہے نام محمد ادب سے
خدا اس پہ کرتا ہے نظر عنایت
حقیقت کی دنیا کا ہے ماہ کامل
منور ہے ان کی جہان صداقت
خاکی محمد فاروق نے شعری سفر کی شروعات ایک مخصوص فکری ماحول اور سنجیدگی میں کیا ۔ مطالعہ ، مشاہدہ اور مشق کے علاؤہ خاکی صاحب نے باریکی بینی کے ساتھ ساتھ سماج کے نشیب و فراز اور گہرے زخموں کو زبان بخش دی۔جس نے ان کی شاعری میں تعمیری فکر اور صالح نظام پیدا کیا۔بقول خاکی محمد فاروق
جہاں میں ایسے بھی کامل بہت انسان ہوتے ہیں
جو مر کے بھی زمانے میں سدا ذی شان ہوتے ہیں
وہ اپنی زندگی میں کام ایسا کر کے جاتے ہیں
فدا ان پر بڑے چھوٹے عظیم الشان ہوتے ہیں
نہ ان کو خوف مرنے کا نہ جینے کی تمنا ہے
نرالے یہ جہاں میں صاحب ایمان ہوتے ہیں
خاکی محمد فاروق زندگی اور کائنات کی کشمکش میں الجھی ہوئی فکر کو ہر لمحہ سلجھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔انسان ،انسانیت کا تصور اور انسانی وجود کی تعظیم و تکریم کو انھوں نے خوبصورتی کے ساتھ اپنی غزلوں میں پرویا ہے۔انھوں نے نئی فضا کے انوکھے خواب اور نام نہاد رنگین تہذیب پر مختلف سوالات بھی قائم کیے ہیں۔اپنے جذبات اور احساسات کے توسط سے اقدار کی زنجیر کو تھامے ہوئے زہر آلودہ نظریات کی گندگی اور خار دار راستوں کے نقشوں کو بھی منصہ شہود پر لایا ہے۔اپنے ماحول میں نئی زندگی کے نئے افکار سے بھی وہ ناآشنا نہیں،اس کے باوجود انھوں نے اس نئی زندگی کے نئے رنگ کو اپنے آنگن کے کینوس پر پھیلنے نہیں دیا۔یہی وجہ ہے کہ بدلتے ہوئے عہد کے بدلتے ہوئے رجحانات کے باوجود ان کی غزلوں میں غضب کی کشش پوشیدہ ہے۔خاکی محمد فاروق لکھتے ہیں:
وفا کی ڈگر پر ہیں طوفان ہزاروں
ستم،غم،مصیبت ہیں پنہاں ہزاروں
قدم پر قدم پر ہجوم الم ہے
فنا اس ڈگر پر ہوئیں جاں ہزاروں
تو خوف و خطر سے نہ گھبراؤ خاکی
ابھی راہ میں آگے ہیں ویراں ہزاروں
’’نمود سحر‘‘ کے متن میں خاکی محمد فاروق کی اضطرابی کیفیت کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔وہاں استعمال ہونے والے استعارے بصارت ،حکومت ،شجاعت ،فقیر،شیطان ،خنجر ،گل ،خار ،زندان ،کفن ،چمن ،امتحان ،دہشت ،نمائش ،لہو اور شاہین سے ان کی شاعری کی تہہ میں پوشیدہ تاریخ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ان کا تخلیقی شعور بالغ ہے جس میں ایک ایک استعارے کے پس منظر میں ایک طویل خاموشی بھی پنہاں ہے ۔ان کے یہاں کئی غزلیں اپنے ہی ماحول کی زہریلی فضا میں بے قرار ہوئی نظر آتی ہے۔انھوں نے اجتماعی اور انفرادی سماجی ،سیاسی اور تہذیبی واردات کو بھی غزلوں کا روپ دے دیاہے۔لیکن کبھی کبھی یہ واردات سماج کو بنانے اور بگاڑنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔خاکی محمد فاروق کی شاعری میں اپنے گھر ہی کی نہیں بلکہ اپنے پاکیزہ تہذیب کی مٹی کی خوشبو کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ان کے اشعار انسانی نفسیات کے متضاد پہلوں کی عکاسی کرتے ہیں۔۔ایک حساس شاعر کی مانند انھوں نے زندگی کے کینوس کو قریب سے دیکھا اور جہاں انسانیت کا رنگ پھیکا پڑا ہو وہاں صدائے حق بھی بلند کی ہے۔بقول خاکی محمد فاروق
میں جہاں کو دیکھ لیتا ہوں مگر اپنی طرح
گل ،چمن،بلبل ،پہ رکھتا ہوں نظر اپنی طرح
راہ میں میری گر بچھائے لاکھ کانٹے بھی جہاں
میں تو چلتا ہی رہوں گا بے خطر اپنی طرح
جس کو جیسے ہو سجانا گھر،مکان ،اپنا صحن
میں سجاتا ہوں مگر اپنا یہ گھر اپنی طرح
خاکی محمد فاروق کی شاعری معاصر دور کی شاعری ہے جس میں انہوں نے اپنے داخلی اور خارجی جذبات کی روشنی میں اپنے خیالات کا بے باک اظہار کیا ہے۔وہی شاعری موثر ہوتی ہے جس میں وقت کے درد کو محسوس کیا جائے اور جو معاصر زندگی کی ترجمانی کرے۔اسی لئے خاکی محمد فاروق کا شعری مجموعہ ’’نمود سحر‘‘ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں معاصر حالات و واقعات اور معاصر سماجی نظام کے مختلف عکس دیکھائی دیتے ہیں ۔’’نمود سحر‘‘کا علمبردار خاکی محمد فاروق کی شعری کائنات کا سفر کرنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ نمود سحر کی آب و تاب نے خاکی صاحب کو ادبی دنیا میں ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ہے ۔
(رابطہ۔9103930114) [email protected]