دبجیاں سے پوشانہ تک شاہراہ کھڈوں میں تبدیل، مسافر پریشان
عظمیٰ نیوز سروس
پونچھ//تاریخی مغل شاہراہ پر پیر کی گلی کے ملحقہ علاقوں میں سڑک کی انتہائی خستہ حالی نے مسافروں کے لیے سفر کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔ شوپیاں ضلع کے دوبچیاں علاقے سے لے کر پونچھ ضلع کی حدود میں واقع پوشانہ تک شاہراہ جگہ جگہ بڑے کھڈوں میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کے باعث نہ صرف گاڑیوں کی رفتار متاثر ہو رہی ہے بلکہ مسافروں کو گھنٹوں جام اور دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں اور روزانہ سفر کرنے والے مسافروں نے متعلقہ محکمہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شاہراہ کی مرمت اور دیکھ بھال کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغل شاہراہ جنوبی کشمیر اور پیر پنچال کے اضلاع کے درمیان ایک اہم رابطہ سڑک ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیاں، مسافر بسیں، ٹیکسی گاڑیاں اور مال بردار ٹرک سفر کرتے ہیں، مگر سڑک کی خستہ حالی نے سفر کو نہایت دشوار بنا دیا ہے۔
مسافروں کے مطابق دوبچیاں سے پیر کی گلی اور پھر پوشانہ تک کئی مقامات پر سڑک مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ بارشوں کے بعد صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے کیونکہ کھڈوں میں پانی جمع ہونے سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ خراب سڑک کی وجہ سے گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور آئے روز ٹائروں، سسپنشن اور دیگر پرزوں کی مرمت پر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔مقامی ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے سفر کا دورانیہ کافی بڑھ گیا ہے۔ پہلے جو سفر مختصر وقت میں مکمل ہو جاتا تھا، اب اسی راستے پر کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے طلبہ، ملازمین، مریضوں اور تاجروں کو سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں۔علاقہ مکینوں نے کہا کہ مغل شاہراہ سیاحتی اعتبار سے بھی نہایت اہمیت رکھتی ہے اور گرمیوں کے موسم میں بڑی تعداد میں سیاح اس شاہراہ کا رخ کرتے ہیں، مگر سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے سیاحوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے خطے کی سیاحت متاثر ہو رہی ہے۔لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ تعمیرات عامہ سے اپیل کی ہے کہ دوبچیاں سے پوشانہ تک شاہراہ کی فوری مرمت اور ازسرنو تعمیر کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو راحت مل سکے اور حادثات کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔