محتشم احتشام
سرنکوٹ//سرحدی ضلع پونچھ کے قصبہ سرنکوٹ میں 9 محرم الحرام کو سالانہ ضلعی جلوسِ عزا نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ برآمد ہوا، جس میں ضلع بھر کی مختلف انجمنوں، ماتمی دستوں اور ہزاروں عزادارانِ امام حسین نے بھرپور شرکت کی۔ جلوس کے دوران فضا نوحہ و مرثیہ خوانی، ذکرِ شہدائے کربلا اور ماتم کی صداؤں سے گونجتی رہی، جبکہ عزاداروں نے حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ عالیہ سرنکوٹ میں اختتام پذیر ہوا۔ راستے بھر عزاداروں نے سینہ زنی اور نوحہ خوانی کے ذریعے حضرت امام حسین، حضرت عباس اور دیگر شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کو یاد کیا۔ مختلف مقامات پر سبیلوں اور نیاز کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں عزاداروں اور شرکائے جلوس کی خدمت کی گئی۔اس موقع پر ممتاز علمائے کرام اور ذاکرین نے اپنے خطابات میں فلسفہ شہادتِ حضرت امام حسین اور دیگر شہدائے کربلا کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کربلا حق، صداقت، عدل، حریت اور انسانی اقدار کی بقا کا ابدی استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین نے ظلم، جبر اور باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے عظیم قربانی دے کر رہتی دنیا تک انسانیت کو عزت، غیرت، صبر اور استقامت کا درس دیا۔علمائے کرام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کربلا کا پیغام صرف ایک مذہب یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، اخوت، رواداری، بھائی چارے اور باہمیاحترام کا عالمگیر پیغام ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ حضرت امام حسین کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتے ہوئے معاشرے میں محبت، اتحاد اور انسانی ہمدردی کو فروغ دیں۔جلوس کے اختتام پر عالمِ اسلام، ملک میں امن و استحکام، بین المذاہب ہم آہنگی، بھائی چارے اور پوری عالمِ انسانیت کی سلامتی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ اس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا کی قربانیوں سے ملنے والے آفاقی پیغامِ حق، عدل، امن اور انسان دوستی کو ہر دور میں زندہ رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ جلوس عزا انجمن جعفریہ سرنکوٹ مینڈھر کے زیر اہتمام برآمد کیا گیا۔