عبداللہ خاندان قوم دشمن قوتوں کے اشاروں پر رقص کر رہا ہے،پارٹی عوام کو گمراہ کرنا بند کرے:چُگ
عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی //بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان اور جموں و کشمیر بی جے پی کے انچارج ترون چگ نے نیشنل کانفرنس حکومت اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جب جموں خطے کے راجوری، پونچھ اور دیگر علاقوں میں بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، ایسے وقت میں وزیر اعلیٰ نے عوام کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے دہلی کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔نئی دہلی میں جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان ست شرما اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان انجینئر غلام علی کھٹانہ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ترون چگ نے کہا کہ حالیہ قدرتی آفت سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، بے شمار خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور بیس سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ایسے نازک وقت میں وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کی اولین ذمہ داری یہ تھی کہ وہ متاثرہ عوام کے درمیان موجود رہتے، امدادی اور بازآبادکاری کے کاموں کی نگرانی کرتے اور مصیبت زدہ ہر خاندان تک فوری مدد پہنچانا یقینی بناتے۔چگ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک بات ہے کہ ایک طرف سوگوار خاندان اپنے پیاروں کی جدائی اور تباہی کے صدمے سے گزر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف عمر عبداللہ اور پوری نیشنل کانفرنس قیادت دہلی میں سیاسی پروگراموں اور احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا”امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کی قیادت کرنے کے بجائے عمر عبداللہ نے عوامی خدمت پر سیاسی دکھاوے کو ترجیح دی۔ جس وقت عوام کو اپنے وزیر اعلیٰ کی زمینی سطح پر موجودگی کی ضرورت تھی، اس وقت انہوں نے انہیں چھوڑ کر نیشنل کانفرنس کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ انتظامی ناکامی، غلط ترجیحات اور عوام کے دکھ درد کے تئیں مکمل بے حسی کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔ترون چگ نے مزید کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار حکومت فوری طور پر انتظامیہ کو متحرک کرتی، خود متاثرہ علاقوں میں ڈیرہ ڈالتی، امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرتی اور متاثرین کی فوری امداد اور بازآبادکاری کو یقینی بناتی۔انہوں نے کہا،”نیشنل کانفرنس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس کے لیے عوام کی فلاح و بہبود اور سلامتی سے زیادہ سیاست اہم ہے۔ جب شہری مصیبت میں ہوں تو حکمرانی کی جگہ سیاسی ڈرامہ بازی نہیں لے سکتی‘‘۔چگ نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت عوام کے فوری مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ان کی توجہ ہٹانے اور انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری توجہ امداد، بازآبادکاری اور معمولاتِ زندگی کی بحالی پر مرکوز کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر کو حساس اور جوابدہ قیادت کی ضرورت ہے، منتخب قیادت قومی دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔بی جے پی کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے ترون چگ نے کہا کہ پارٹی نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر سری نگر میں مجوزہ احتجاجی پروگرام فوری طور پر منسوخ کر دیا تاکہ پوری توجہ امدادی اور بچاؤ کارروائیوں پر مرکوز رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف سنیل شرما، سابق جموں و کشمیر بی جے پی صدر رویندر رینہ، نائب صدر ڈاکٹر شہناز گنائی، جنرل سیکریٹری گوپال مہاجن اور دیگر سینئررہنماؤں پر مشتمل ایک وفد فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچا، نقصانات کا جائزہ لیا، متاثرین سے ملاقات کی اور ہر ممکن امداد کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا”بی جے پی کا ماننا ہے کہ عوام کی خدمت سیاست سے پہلے ہے۔ جہاں ہمارے کارکن اور رہنما سیلاب متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑے تھے، وہیں نیشنل کانفرنس کی قیادت دہلی میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں مصروف تھی۔ عوام نے یہ واضح فرق اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے‘‘۔ترون چگ نے مزید کہا کہ عمر عبداللہ اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ عوام کے فوری مسائل حل کرنے کے بجائے ایک سیاسی بیانیہ آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحے کے وقت ذمہ دار قیادت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عوام کے درمیان موجود رہے، نہ کہ متاثرہ علاقوں سے دور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہو۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام حالیہ برسوں کے سب سے مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دینے پر عمر عبداللہ حکومت سے ضرور جواب طلب کریں گے۔جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست شرما نے کہا کہ عوام بحران کے وقت سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ قیادت کی عملی موجودگی کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی جے پی ہر متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور اس وقت تک اپنی حمایت جاری رکھے گی جب تک امداد، بازآبادکاری اور انصاف کی فراہمی مکمل نہیں ہو جاتی۔