بے شک ہر چیز کا اللہ کو ہی علم ہےاور جو آثار ِ قدرت کا علم رکھتے ہیں وہی بندے خدا سے ڈرتے ہیں۔خدا کا خوف اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے ہی انسان پر ’علِم‘کے دروازے کھل جاتے ہیں،گویا علم انسان کے لئے ایک روشنی کی مانند ہے جو اندھیروں میں اُس کے لئے رہنما ئی کرتی ہے،علم وہ قیمتی متاع ہے جس سے انسان اپنی تقدیر کو بدل کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ علم انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کرتا ہے اور اس کی سوچ کے دریچے کھولتا ہے، جب انسان علم سے محروم رہتا ہے تو وہ جاہلیت کے تاریک دور میں محصور ہو جاتا ہے، جہاں اس کے دل و دماغ پر غفلت اور جہالت کا غبار چھایا ہوتا ہے اور وہ اپنی منزل سے بے خبر رہتا ہے۔
علم انسان کی روح کی غذا ہے، جس سے اس کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے اور اس کی عقل کی روشنی بڑھتی ہے، علم کا حصول نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ ایک فرض ہے جو ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے۔لیکن آج ٹیکنالوجی کے اِس دور میں یہی دکھائی دے رہا ہے کہ سوشل میڈیا نے ہماری نوجوان نسل کو کتابوں سے دور کرکے اسکرین تک محدود کر دیا ہے،حالانکہ کتابیں ہی وہ آئینہ ہے جو انسان کو خود سے ملاتی ہیں اور مطالعہ ہی وہ عمل ہے جو انسان کو سوچنے اور سمجھنے کی اصل طاقت دیتا ہے۔مطالعہ سے انسان کے ذہن کو وسعت ملتی ہےاور سوچنےو سمجھنے کا ہنر آتا ہے۔جو قوم مطالعہ سے وابستہ رہتی ہے، وہ کبھی پسماندہ نہیں ہوتی،کیونکہ کتابیں انسان کو محض علم نہیں دیتیں بلکہ کردار بناتی ہیں، جذبہ جگاتی ہیں ، اچھائی کی طرف لے جاتی ہیںاورعظمت کے مقام تک پہنچا دیتی ہیں۔گویامطالعہ علم کا سفر ہےاور علم وہ روشنی ہے جو انسان کو خود اپنی پہچان تک لے جاتی ہے۔دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم کی بنیاد علم، تحقیق اور مطالعہ پر قائم ہوتی ہے اورکتاب وہ روشنی ہے جو انسان کے ذہن کو منور اور دل کو مطمئن کرتی ہے۔واقعی یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہماری نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان بتدریج کم ہوتا جا رہا ہےاور بچّوں کو مطالعے کی طرف مائل کرنا والدین اور اساتذہ دونوں کے لئے ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔ حالانکہ نفسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مطالعہ بچّوں کی ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ اچھی کتابیں نہ صرف ذہنی دباؤ، بے چینی اور احساسِ تنہائی سے بچاتی ہیں بلکہ تخیل کو وسعت دیتی، جذبات کو توازن عطاء کرتی اور شخصیت کو نکھارتی ہیں۔ کتاب بچّوں کو فضول اور نقصان دہ مشاغل سے دور رکھ کر انہیں تعمیری سوچ، اخلاقی قدروں اور مثبت طرزِ فکر کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ انہیں لفظوں سے محبت، خیال سے رفاقت اور علم سے وابستگی سکھاتی ہے۔
درحقیقت کتاب سے دوستی کا مطلب ایک روشن مستقبل سے دوستی ہے، ایسا مستقبل جو شعور، تہذیب اور انسان دوستی کی بنیادوں پر استوار ہو۔ اسی لیے قوموں کی زندگی میں کتاب کا چراغ جلتا رہے تو زوال کی تاریکی کبھی مستقل نہیں ہو سکتی۔ظاہر ہے کہ کتاب انسان کو نہ صرف علم عطاء کرتی ہے بلکہ تحقیق، تنقید، استدلال اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو فرد کو پختہ، معاشرے کو متوازن اور قوم کو باوقار بناتے ہیں۔ کتاب انسان کو سطحیت سے نکال کر گہرائی، تعصب سے نکال کر بصیرت اور انتشار سے نکال کر فکری استحکام کی طرف لے جاتی ہے۔اسی لیے کتاب انسان کی بہترین دوست کہلاتی ہے جبکہ کتابوں سے رشتہ رکھنے والا شخص کبھی تنہاء نہیں ہوتا،ہجوم میں بھی اس کے ساتھ ایک دنیا آباد رہتی ہے۔کتاب کی رفاقت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مفاد، موسم اور مزاج کی تبدیلی سے بے نیاز رہتی ہے۔ جب وقت کی گرد دوستوں کو جدا کر دیتی ہے اور حالات کے نشیب و فراز عزیزوں کو دور لے جاتے ہیں، تب بھی کتاب خاموشی سے انسان کے پاس بیٹھی رہتی ہے، اس کا ہاتھ تھامے رکھتی ہے اور اسے ٹوٹنے نہیں دیتی۔ کتاب غم کے لمحوں میں تسلی بنتی ہے، تنہائی میں ہم نشین اور اضطراب میں رہنما ثابت ہوتی ہے۔ نوجوان نسل میں کتاب دوستی اور مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ آج بھی ترقی کا سب سے مؤثر راستہ کتابوں کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔لہٰذا اسکولوں، اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں کتاب دوستی کا جذبہ پروان چڑھائیں،انہیں کتابوں سے دوستی کرانا سکھائیں تاکہ وہ مطالعہ کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں ۔