کل یعنی 31مئی کو دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا عالمی دن منایاگیا۔حسب روایت اس موقع پر تمباکو مخالف پوسٹر لگائے گئے ،تقاریر کی گئیںاور تمباکو کے مضر اثرات پر بہت ساری باتیں ہوئیں۔ لیکن ایک تلخ سوال پھر بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا صرف ایک دن کا یہ علامتی واقعہ اِس وباء کے روکتھام کے لئے کافی ہے جو کینسر، امراضِ قلب، فالج اور پھیپھڑوں کی مہلک بیماریوں میں مبتلاکرنےکے لئےروزانہ لاکھوں لوگوں کے جسموں کو زہر آلود کررہی ہے؟جبکہ پہلے ہی ہمارے ملک میںلوگ مختلف مسائل کےگھیرے میں اُلجھے ہوئے ہیں،جن میںبدعنوانی، زبان کے تنازعات، پینے کےپانی کی نایابی، خواتین کی حفاظت، ماحولیاتی تحفظ، مہنگائی، بے روزگاری اورنا انصافی جیسے معاملات شامل ہیں۔
حقیقت یہ بھی ہےکہ جب کسی خاندان کا کمانے والا تمباکو کے کینسر سے مر جاتا ہے، جب کسی بچے کےباپ کی گٹکا یا سگریٹ کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے، جب کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کو نکوٹین کی لت میں مبتلا دیکھتی ہے، تو یہ محض ایک ذاتی المیہ نہیں بلکہ قومی تشویش کا معاملہ بن جاتا ہے،گویا ایسے لاکھوںخاندانوں کے دُکھ درد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تمباکو کی ممانعت کو نہ صرف صحت کی مہم میں تبدیل کرناانتہائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس مہم کو وسیع تر سماجی، ثقافتی اور سیاسی تحریک میں تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔چنانچہ گزشتہ ایک دو دہائیوں کے دوران نشے کی نوعیت تیزی سے بدل چکی ہے۔ اب سگریٹ اور تمباکوکا کاروبار کرنے والے جدید ٹیکنالوجی کی آڑ میں نوجوانوں کے سامنے منشیات پیش کرتے رہتے ہیںاور اِی سگریٹ، ویپس، نیکوٹین پوڈز، ذائقہ دار ہُکّے، نکوٹین پاؤچز اور مختلف الیکٹرانک سگریٹ نوشی کے آلات کو جدید طرز زندگی کی علامت کے طور پر فروغ دے رہے ہیں۔تمباکو صنعت کے تاجر نئی نسل کونشے کی طرف مائل کرنے کے لئے اپنی مصنوعات کو مختلف شکلوں میں تبدیل کررہے ہیں۔
لہٰذا آج کل بہت سے ویپنگ ڈیوائسز پین ڈرائیوز، سمارٹ گیجٹس، الیکٹرانک پین یا اسٹائلش لوازمات سے ملتےجلتے ہیں، نکوٹین کو چاکلیٹ، اسٹرابیری، بلو بیری، ونیلا، پودینہ اور دیگر دلکش ذائقوں کے ذریعے میٹھے زہر کو پیش کررہے ہیںاورنوعمر اور نوجوان نسل انہیں جدیدیت، آزادی اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھ کر استعمال کررہے ہیں۔ یہ حکمت عملی نہ صرف تجارتی ہے بلکہ نفسیاتی بھی ہے، کیونکہ لت کو ذائقہ اور اپیل کے ذریعے آسان بنایا جارہا ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان جدید مصنوعات کو اکثر روایتی سگریٹ سے کم نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے،جب کہ سائنسی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ای سگریٹ سے خارج ہونے والے ایروسول میں نکوٹین سمیت متعدد نقصان دہ کیمیکل ہوتے ہیں۔ نکوٹین بذات خود ایک انتہائی نشہ آور مادہ ہے،نیزبہت سے آلات میں استعمال ہونے والی دھاتوں، کیمیکلز اور دیگر عناصر کے طویل مدتی اثرات ابھی زیر ِ تحقیق ہیں۔
تمباکو اور نکوٹین کا خوفناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا شکار صرف استعمال کرنے والے ہی نہیں ہوتے بلکہ جنہوں نے کبھی سگریٹ یا تمباکو کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہوتا، وہ بھی گھروں، دفاتر، ریستورانوں، عوامی مقامات اور دوران سفرگاڑیوںمیں تمباکو سے خارج ہونے والےدُھویں سے متاثر ہوجاتے ہیں،یہاں تک کہ اس کے بُرےاثرات معصوم بچوں، حاملہ خواتین، بوڑھوں اور اُن لوگوں پر بھی پڑتے ہیں، جن کی صحت ٹھیک نہیں ہوتی ہے۔ جب کوئی عوامی جگہ پر سگریٹ نوشی کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دوسروں کے صحت کے حقوق کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کو صرف انفرادی رویے کا سوال نہیں بلکہ صحت عامہ اور سماجی ذمہ داری کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
لہٰذا تمباکو کنٹرول قوانین کے موثر نفاذ کے لئے جوابدہی کو یقینی بنانے کی سخت ضرورت ہے۔ جب مختلف علاقوں میں ممنوعہ مصنوعات کھلے عام فروخت ہوتی ہیں، جب اسکولوں کے قریب تمباکو فروخت کیا جاتا ہے یا جب عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہیں ہوتی تو صرف قوانین کا نفاذ کافی نہیں ہے۔ موثر نگرانی، باقاعدہ معائنہ، عوامی شرکت اور احتساب کا واضح نظام انتہائی لازمی ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف متحدہ اور منظم طریقے پر مہم چلانےاور محض ایک دن کی آگاہی کے بجائے سال بھر سماجی وابستگی کے تحت اس کے خلاف کام کرنےکی ضرورت ہے۔ اگر آج بھی ہم نے تمباکو اور نکوٹین کی بدلتی ہوئی حکمت عملیوں کو نہ سمجھا، جدید نشے کے نقاب کو نہ پہچانا اور نوجوانوں کو اس کے جال سے بچانے کے لئے اجتماعی کوششیں نہ کیں تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت ادا ہوگی ۔