عصر ِ حاضر میںجس تیزی سے انسانی معاشروں میں تہذیبی و سائنسی ترقی بڑھ رہی ہے، اُس سے کئی گنا زیادہ رفتار سےبُرائیاں اور خرابیاں سرایت کرتی چلی جارہی ہیں۔ہرنئی صبح کوئی نیا صدمہ لے کر آتی ہے اور ہر شام کسی نہ کسی افسوسناک واقعے کی لرزا دینے والی داستان سُناتی رہتی ہے۔جس سے ہر ذی ہوش کےذہن میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر اس بڑھتی ہوئی اخلاقی بگاڑ اور سماجی انتشار کی اصل وجوہات کیا ہیں اور کب اور کیسے اس کا مؤثر اور دیرپا حل تلاش کیا جائے گا؟ اخبارات، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر ایسی شرمناک ، خوفناک ،درد ناک اور دل دہلانے والی ایسی خبریںتسلسل کے ساتھ عوام تک پہنچ رہی ہیں،جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقی زوال اور سماجی بگاڑ انتہائی سنگین علامت بن چکی ہے۔ معاشرے میں اخلاقی قدریں کافی حد تک کمزور پڑ چکی ہیں، گھروں اور اداروں کا تربیتی ماحول خست و پست ہوچکا ہےاور قانون کی گرفت نفی کے برابر رہ گئی ہے۔ظاہر ہے کہ جب سےہم نے اخلاقی اقدار، روحانی معنویت و اجتماعی بھلائی کو ثانوی درجے میں رکھ دیا ہے،تب سے نام نہادترقی نے ہمیں کئی سہولیات تو دے دی ہیں مگر مقصد نہیں، اختیار تو دیا ہے، مگر ذمّہ داری نہیں۔نتیجتاًہماری تہذیب میں اخلاقی اور فکری بحران بڑھ کر معاشرتی توازن کو بگاڑتا چلا جارہا ہےاور تہذیب کا بنیادی ڈھانچہ کھوکھلا ہوکر رہ گیا ہے،جس کے نتیجے میں جہاں ہمارے معاشرے میں داخلی تضادات نے جنم لیا ہے وہیں ہماری معاشرت اور تہذیب و تمدن زوال پذیر ی کی جانب رواں دواں ہے۔
حالانکہ تہذیبی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب اخلاقیات محض تقریروں اور اعلامیوں تک محدود ہوکر رہتاہے۔ معاشرے کی زوال پذیری ایک تدریجی اور یقینی عمل بن جاتی ہے۔ حالیہ بڈگام کے گلوان پورہ کا درد ناک معاملہ اسی زوال کی علامتی تصویرکی شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے،جو ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہماری زوال شدہ تہذیب کا وہ چہرہ جھلکتا ہے ،جسے اخلاق کے خوش نما نعروں اور باتوں سے ڈھاپا جارہا ہے۔حالانکہ یہ معاملہ محض کسی ایک طبقے یا کسی ایک گھرانے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرے کے لئے ایک تنبیہ ہےکہ ہمارا زوال کس مرحلے میں داخل ہوچکا ہے،جسے نہ میڈیا کا شور روک سکتا ہے، نہ اداروں کی چمک، کیونکہ اخلاقی دیوالیہ پن آخرکار خود کو آشکار کر ہی دیتا ہے اور گہرے اخلاقی انحطاط کا جو مجموعہ نظر آتا ہے، وہ اس امر کااشارہ کرتا ہے کہ یہ ہماری تہذیب اپنے زوال کی آخری سیڑھی پر کھڑی ہے، جہاں سے گرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو تہذیبیں عموماً اندر سے ٹوٹتی ہیں۔ اعتماد کا بتدریج زوال، اخلاقی ساکھ کا بکھرنااور فکری و معنوی برتری کا خاتمہ، یہ وہ خاموش عمل ہیں جو کسی بھی اچھے بھلے نظام کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے،کیونکہ جب ادارے اپنی اخلاقی بنیاد کھو بیٹھیں، قانون مساوی نہ رہے اور بیانیہ حقیقت سے کٹ جائے تو ظاہری استحکام ایک دھوکہ بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ سوال محض ایک تہذیب کے مستقبل سے متعلق نہیں بلکہ تاریخ کے اس آفاقی قانون کی یاد دہانی ہے جو ہر دور میں طاقت، اخلاق اور انصاف کے باہمی تعلق کو پرکھتا آیا ہے۔ تاریخ کا قانون اٹل ہے کہ جو تہذیب انصاف سے منہ موڑ لے، وہ زیادہ دیر تک تاریخ کے مرکز میں نہیں رہ سکتی۔ انصاف محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ تہذیبی بقاء کی شرط ہے ۔ جب مفاد انصاف پر غالب آ جائے اور طاقت حق کی جگہ لے لے، تو تہذیبیں اپنے ہی تضادات کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہیں۔ الغرض ہمارےمعاشرے کی اخلاقی تہذیب کی موجودہ صورت حال پر جہاں ہر ذی ہوش فرد کو سنجیدہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ،وہیںحکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی عملداری کو مؤثر بنائے، انصاف کو تیز رفتارو منصفانہ بنائے اور جرم کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔ علمائے کرام پر بھی لازم ہے کہ وہ معاشرے میں اخلاقی بیداری پیدا کریں اور منبروں سے لوگوں کی رہنمائی کریں۔اگر ہم حقیقی معنوں میںچاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر باوقار بن جائے تو ہمارے لئے محض باتیں کرنا ٹھیک نہیں بلکہ عملی قدم اُٹھانا لازمی ہے۔