سرینگر//جموں کشمیر ہائی کورٹ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ جموں کشمیر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے سبکدوش ہوئے389ملازمین کوپنشن فوائد دینے کیلئے چار ماہ کے اندر غور کریں ۔عدالت نے کہا کہ پنشن کوئی مالی معاونت نہیں ہے بلکہ ماضی کی خدمات کی ادائیگی ہے۔ جسٹس علی محمد ماگرے کے بنچ نے ایس آر ٹی سی کے سبکدوش ہوئے389ملازمین کی عرضی کومنظور کرتے ہوئے کہا کہ پنشن سماجی بہبود کاایک اقدام ہے جو ان لوگوں کو سماجی واقتصادی انصاف فراہم کرتا ہے جنہوں نے اپنے عہدجوانی میں مالک کیلئے جانفشانی سے کام کیا اس مید کے ساتھ کہ بڑھاپے میں انہیں سرراہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کی طرف سے اس سلسلے میں پہلے ہی فیصلہ لئے جانے اور معاملے کو محکمہ خزانہ کو منتقل کئے جانے کانوٹس لیتے ہوئے عدالت نے محکمہ خزانہ کے کمشنر سیکریٹری،محکمہ ٹرانسپورٹ کے کمشنر سیکریٹری اورٹرانسپورٹ کمشنر کوکارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے مکتوب پر چار ماہ کے اندر غور کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا،’’کہ عرضی گزاروں کو ان کے سبکدوش ہونے کے روز سے تمام لازمی واجبات اداکئے جائیں گے‘‘۔عدالت نے عرضی گزاروں کو سابق کورنمنٹ ٹرانسپورٹ انڈرٹیکنگ ملازمین کی طرح ہی ریٹائرمنٹ فوائد دینے کا مستحق قراردیا ،جنہوں نے کارپوریشن کی ملازمت کو اختیار کیاتھااورجموں کشمیرانڈسٹریزاوردیگر کارپوریشنوں کی طرح انہیں بھی فوائد کا مستحق ٹھہرایا۔عدالت نے کہا کہ ایک بار جب اعلیٰ حکام نے اجتماعی طور فیصلہ لیا تواسے اس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے محکمہ خزانہ میں اتنا وقت نہیں لگنا چاہیے تھا۔عدالت نے کہاکہ کارپوریشن کے ڈائریکٹروں نے فیصلہ کیاتھا کہ معاملے کو خزانہ محکمہ کے ساتھ انتظامی محکمہ کے توسط سے اُٹھایا جائے گااوراس کے نتیجے میں کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کمشنر سیکریٹری ٹرانسپورٹ محکمہ کو15جون2020کومکتوب روانہ کیا ۔عدالت نے کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کے فیصلے اورمنیجنگ ڈائریکٹر کے مکتوب جس میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیراسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ملازمین جموں کشمیر انڈسٹریزاورجموں کشمیر ہینڈلوم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ملازمین کی ہی طرح ہیں ،عدالت نے کہا کہ عرضی گزاروںکو ایسے فوائد نہ دینے کی کوئی قانونی جوازیت نہیں ہے ۔جموں کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ملازمین کی انجمن نے ایڈوکیٹ مومن خان کے توسط سے عدالت میں عرضی دائر کی تھی جس میں389ملازمین نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے ساتھ سرکاری ملازمین کی ہی طرح کا سلوک کیا جائے اورانہیں سابق گورنمنٹ ٹرانسپورٹ انڈرٹیکنگ ملازمین ہی کی طرح سبکدوشی کے فوائد دیئے جائیں۔