سید مصطفیٰ احمد، بڈگام
تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، اخلاقی اور تمدنی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ تعلیم وقت کے تقاضوں، انسانی ضروریات اور مستقبل کے چیلنجز سے ہم آہنگ ہو تو اسے پائیدار تعلیم (Sustainable Education) کہا جا سکتا ہے۔ ایسی تعلیم کا مقصد محض روزگار فراہم کرنا یا امتحانات میں کامیابی دلانا نہیں بلکہ ایسے باشعور، باکردار اور ذمہ دار انسان تیار کرنا ہے جو ایک بہتر معاشرے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ پائیدار تعلیم انسان کو مسائل کا شکار نہیں بلکہ ان کا حل تلاش کرنے والا بناتی ہے۔ یہی تعلیم غربت، عدم مساوات، فرقہ واریت، ماحولیاتی بحران، بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ وحدت میں کثرت کے تصور کو فروغ دیتی ہے اور مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے احترام کا شعور عطا کرتی ہے۔
پائیدار تعلیم کسی اتفاق یا خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور مسلسل عمل ہے۔ اس کی پہلی شرط تعلیم کی اصل روح کو سمجھنا ہے۔ جب تک تعلیم کا مقصد صرف ملازمت یا معاشی منفعت سمجھا جائے گا، اس وقت تک معاشرے میں حقیقی تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔ تعلیم کا اصل مقصد ایک باکردار، باصلاحیت، تنقیدی فکر رکھنے والا اور سماجی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا انسان پیدا کرنا ہے۔ جب یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے تو تعلیمی نظام میں کسی قسم کی غفلت یا مصلحت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اساتذہ، والدین، تعلیمی ادارے اور حکومت سب اپنی ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی سے نبھاتے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو بہترین علمی اور اخلاقی بنیاد فراہم کی جا سکے۔
دوسری اہم شرط ترقی اور تعمیر ہے۔ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کا دارومدار اس کے نظامِ تعلیم پر ہوتا ہے۔ معیاری تعلیم ہی انسانی وسائل کو مؤثر بناتی ہے، قومی مسائل کی درست تشخیص کرتی ہے اور ان کے دیرپا حل پیش کرتی ہے۔ طلبہ میں تحقیق، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور اختراع کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے تاکہ وہ صرف حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے بجائے حالات کو بہتر بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی قوم کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچاتا ہے۔
تیسری شرط واضح نصب العین ہے۔ جن قوموں کے سامنے ایک بلند مقصد ہوتا ہے، وہ تعلیم کو محض معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی خدمت کا وسیلہ سمجھتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ رواداری، ہمدردی، اخوت، انصاف، برداشت اور باہمی احترام جیسی اقدار صرف نصابی کتابوں سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ایک مضبوط اور بامقصد نظامِ تعلیم کے ذریعے معاشرے میں راسخ ہوتی ہیں۔ اسی لیے وہ تعلیم پر خرچ ہونے والے وسائل کو خرچ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری تصور کرتی ہیں۔
چوتھی شرط صحت مند مسابقت ہے۔ ترقی یافتہ اقوام جانتی ہیں کہ حقیقی مقابلہ ہتھیاروں کی دوڑ یا محض معاشی برتری سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اختراع اور انسانی صلاحیتوں سے جیتا جاتا ہے۔ اس لیے وہ غیر ضروری مصروفیات کے بجائے تعلیم، سائنسی تحقیق اور فکری ارتقا پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ ایک صحت مند، خوشحال اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہی عالمی سطح پر باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔
موجودہ دور میں پائیدار تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ کووڈ-19 جیسی عالمی وباؤں، موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، عالمی معاشی بے یقینی، جنگوں، نقل مکانی اور بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواری نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی نظامِ تعلیم اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو تحقیق، اختراع، ماحولیات، اخلاقیات، ڈیجیٹل مہارتوں اور سماجی ذمہ داری سے جوڑا جائے تاکہ طلبہ بدلتے ہوئے حالات میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی تعلیم کو زیادہ تر امتحان، ڈگری اور ملازمت تک محدود سمجھا جاتا ہے، جبکہ اصل ضرورت ایسے نظامِ تعلیم کی ہے جو سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ جب تک تعلیم انسان کی شخصیت، کردار اور فکر کی تعمیر نہیں کرے گی، اس وقت تک پائیدار ترقی کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، اساتذہ، والدین اور طلبہ سب مل کر ایک ایسے تعلیمی نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں جو انسان کو صرف کامیاب پیشہ ور ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری، حساس انسان اور تعمیری مفکر بھی بنائے۔ یہی پائیدار تعلیم کا حقیقی مقصد ہے۔
اگر ہم ایک پُرامن، خوشحال، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو قومی ترجیحات میں اولین مقام دینا ہوگا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتا ہے، معاشروں کو استحکام بخشتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت بنتا ہے۔
[email protected]
����������������