فکروفہم
شیخ ولی محمد
کشمیر میں محکمہ سکولی تعلیم نے گرمائی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے ۔ایک حکم نامے کے مطابق وادی میں 12 ویں جماعت تک کے تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے 6 جولائی سے 15 روزہ چھٹیوں کے لیے بند رہیں گے اور 20 جولائی کو دوبارہ کھلیں گے ۔ آج سے چار پانچ دہائیوں قبل جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے توان چھٹیوں کو عرف عام میں 15 دنوں کی چھٹیوں سے یاد کرتے تھے ۔جوں ہی چھٹیاں شروع ہوتی تھی تو اساتذہ کی ھدایات کے مطابق ہوم ورک شروع ہوتی تھی ۔تعلیمی تقاضوں کے مطابق ان دنوں زیادہ سے زیادہ کام یہ ہوتا تھا کہ اردو اور انگریزی مضامین کے لیے ہر روز ایک ایک صفحہ تحریر کرنا تھا ۔ہم لوگ چھٹیوں کے ابتدائی تین چار دنوں میں ہی یہ کام مکمل کر کے گرمائی تعطیلات کا لطف اٹھاتے تھے ۔
زندگی کے مختلف شعبوں میں اب بہت تبدیلی آ چکی ہے ۔شعبہ تعلیم اس میں سر فہرست ہے ۔آج کل مسابقتی دور چل رہا ہے ۔ہمارے زمانے میں کالج اور یونیورسٹی سطح پر طالب علم کو پتہ چلتا تھا کہ آ گے مجھے کسی فیلڈ میں جاکر کمائی کرنی ہے لیکن آ ج کے بچے کو پیدائش کے فوراً بعد ہی اس کے کانوں میں یہ بات بٹھائ جاتی ہے کہ آ گے آ پ کو ڈاکٹر،انجینئر ،پولیس آ فیسر،ایڈمنسٹریٹر وغیرہ بننا ضروری ہے ۔اس طرح ایک معصوم بچہ بچپن ہی سےNEET,JEE,IAS,KAS کے غیر ضروری دباؤ کا شکار ہو اپنے تعلیمی کیریئر کا آغاز کرتاہے ۔اب بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے مطابق بغیر کسی دباؤ کے ہمیں اپنے بچوں کو کل کے لیے تیار کرنا ہے ۔یہ چھٹیاں جہاں طلبہ،اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے نوید مسرت ہوتی ہیں وہیں والدین کو بچوں کی تعلیم و تربیت کا ایک سنہری موقعہ فراہم کرتی ہیں ۔بچوں کو بامقصد سرگرمیوں میں مصروف رکھنا والدین کی ایک اہم ذمہ داری ہے ۔چونکہ عام دنوں میں اسکول کی روزمرہ نصابی سرگرمیوں،تعلیمی مصروفیات اور وقت کی قلت کی وجہ سے والدین بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں خود کو مجبور محسوس کرتے ہیں تاہم اگر ایک منصوبہ بندی کے تحت ان چھٹیوں کا ایک خاکہ پہلے ہی بنایا جائے تواس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔بچے اپنے والدین یا گھر میں موجود تعلیم یافتہ افراد کی نگرانی میں اپنی ڈائری یا نوٹ بک میں چھٹیوں میں انجام دینے والے کاموں کا خاکہ بنائیں ۔جو کام مکمل ہوتے جائیں ان پر نشان لگاتے جائیں ۔سب سے پہلے بچے تفویض کی گئی نصابی کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔نصابی کتب میں جو اسباق رہ گئے یا چھوٹ گئے ہو ان کی طرف خصوصی توجہ دی جائے ۔اگر اساتذہ نے کوئی پروجیکٹ ورک تفویض کی ہے تو اس کو مکمل کرنے کے لیے کوشش کی جائے ۔ تعطیلات کے ان ایام میں بچوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے ۔مختلف عنوانات پر لکھنے کی کوشش کی جائے ۔چھٹیوں کے دوران جو سرگرمیاں انجام دی جائے ان کو رپورٹ کی شکل میں اردو اور انگریزی زبان میں تحریر کیا جائے ۔اپنی نصابی کتب کے علاؤہ من پسند کتابوں کا مطالعہ کیا جائے ۔عملی دنیا سے جڑی ہوئی کاموں کو انجام دیا جائے ۔گھریلوں زمہ داریوں میں افراد خانہ کا ہاتھ بٹایا جائے ۔چھوٹے موٹے کام جیسے بستر ٹھیک کرنا،کھانے کے بعد برتن اٹھانا،پودوں کو پانی دینا وغیرہ میں بچوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ آ گے عملی زندگی میں یہ چیزیں ان کے کام آ سکے ۔ اخلاقیات اور کردار سازی کے حوالے سے تعطیلات میں مقامی درسگاہ سے بھرپور استفادہ کیا جائے ۔قران پاک کا تلفظ درست کیا جائے اور ساتھ ساتھ سیرت پاک،سیرت صحابہ،سیرت اولیاء کا مطالعہ کیا جائے ۔بچوں کے لیے مختلف تفریحی پروگراموں کو عمل میں لایا جائے ۔قدرت کے دلکش ودیدہ زیب فطری مناظر،پہاڑوں،آ بشاروں،صحت افزاء مقامات کی سیر کی جائے ۔اس کے علاوہ تواریخی مقامات،میوزیم میں موجود قدیم ترین تہذیبوں کے آثار کامشاہدہ کیا جائے ۔والدین بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کے لیےان سرگرمیوں میں اپنی طرف سے اصافہ بھی کرسکتے ہیں ۔الغرض یہ تعطیلات بہت ہی مفید اور موثر ثابت ہوسکتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ایام ایک منصوبے کے تحت گزاریں جائیں ۔
����������������