آصف حسین الکشمیری
زبان محض حروف و الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ کسی قوم کے شعور، اس کی تہذیب، اس کے فکری ارتقا اور اس کی اجتماعی روح کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی زبان کو سنبھالا، انہوں نے اپنی شناخت کو محفوظ رکھا اور جنہوں نے اپنی زبان سے غفلت برتی، وہ آہستہ آہستہ فکری غلامی اور تہذیبی زوال کا شکار ہو گئیں۔ اردو زبان بھی ہمارے لیے محض اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی شناخت، دینی فہم اور فکری وراثت کا نام ہے۔اردو زبان ہماری تہذیب، ثقافت اور فکری روایت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ زبان ہمارے ماضی کی امین، حال کی ترجمان اور مستقبل کی رہنما ہے۔ اردو کے بغیر نہ ہمارا ادبی ورثہ مکمل ہے نہ ہماری فکری تاریخ اور نہ ہی ہماری تہذیبی پہچان۔ یہ زبان صدیوں کے فکری تجربات، روحانی وارداتوں اور سماجی شعور کی عکاس ہے۔
برصغیر میں اردو نے ایک ایسی مشترکہ تہذیب کو جنم دیا جس کی بنیاد شائستگی، رواداری، اعتدال اور فکری گہرائی پر تھی۔ ولی دکنی سے لے کر میر تقی میر تک، غالب سے اقبال تک، سر سید احمد خان سے مولانا شبلی نعمانی تک ،یہ سب وہ روشن نام ہیں جنہوں نے اردو کو محض ادبی زبان نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری اور تہذیبی رہنمائی کا وسیلہ بنایا۔ علامہ اقبال نے اردو کے ذریعے امت کو خودی، بیداری اور فکری آزادی کا پیغام دیا جبکہ غالب نے اسی زبان میں انسانی احساسات کو آفاقی وسعت عطا کی۔اردو محض شاعری کی زبان نہیں رہی، بلکہ اصلاحِ معاشرہ، دینی تفہیم، علمی مکالمے اور صحافتی جدوجہد کی زبان بھی بنی۔ قرآن و حدیث کی تفہیم، فقہی مباحث، تصوف کی باریکیاں اور اخلاقی تعلیمات اردو ہی کے ذریعے عام ہوئیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا اشرف علی تھانوی، سید سلیمان ندوی اور مولانا مودودی جیسے اہلِ علم نے اردو کو فکری اور دینی زبان کے طور پر استحکام بخشا۔
کشمیر کی علمی، دینی اور ادبی تاریخ میں بھی اردو زبان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ مساجد کے خطبات، مدارس کے دروس، اصلاحی رسائل اور فکری تحریریں زیادہ تر اردو ہی میں سامنے آئیں۔ اردو عوام اور علما کے درمیان فکری رابطے کا ذریعہ بنی اور معاشرتی اصلاح کا مؤثر وسیلہ رہی۔لیکن آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اردو زبان اپنے ہی معاشرے میں اجنبیت کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر کشمیر میں نوجوان نسل اردو ادب اور اردو مطالعے سے دور ہو چکی ہے۔ فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، اختر الایمان اور ن م راشد جیسے شعرا کے نام تو سنے جاتے ہیں، مگر ان کے افکار اور تخلیقات سے حقیقی شناسائی کم ہوتی جا رہی ہے۔
جب نوجوان اپنی زبان سے کٹ جاتا ہے تو دراصل وہ اپنی فکری جڑوں سے بھی کٹ جاتا ہے۔ اردو سے دوری نے ہماری نئی نسل کو سوشل میڈیا کی غیر سنجیدہ، سطحی اور بے وزن زبان کا اسیر بنا دیا ہے۔ الفاظ کی بہتات ہے، مگر معنی کی کمی، آواز بلند ہے، مگر فکر کمزور۔ یہی فکری خلا معاشرتی انتشار اور ذہنی بے سمتی کو جنم دے رہا ہے۔
تعلیمی اداروں میں اردو کو محض ایک امتحانی مضمون بنا دیا گیا ہے، حالانکہ زبان تخلیق سے زندہ رہتی ہے، رَٹنے سے نہیں۔ نہ طلبہ کو اردو ادب کا حسن دکھایا جاتا ہے، نہ میر و غالب کی فکری گہرائی سے روشناس کرایا جاتا ہے اور نہ ہی اقبال کے پیغام کو عصری تناظر میں سمجھایا جاتا ہے۔ نتیجتاً زبان کا ذوق ختم ہو رہا ہے اور اظہار کی سطح گرتی جا رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے سنجیدہ، مستقل اور منظم پروگرام ترتیب دیے جائیں۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو ادب کے مطالعاتی حلقے، ادبی نشستیں، مشاعرے، فکری مکالمے اور تحریری مقابلے منعقد کیے جائیں۔ نوجوانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ اردو محض ماضی کی زبان نہیں، بلکہ آج بھی فکری رہنمائی اور تخلیقی اظہار کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
کشمیر میں اردو زبان کے حوالے سے باقاعدہ تعارفی پروگرام، ادبی ورکشاپس اور نوجوانوں کے لیے تربیتی نشستیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اردو کو جدید تقاضوں کے مطابق پیش کیے بغیر ہم نئی نسل کو اس زبان سے جوڑ نہیں سکتے۔ اردو میں عصری مسائل، سماجی چیلنجز اور فکری مباحث کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔والدین کی ذمہ داری بھی یہاں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ زبان اداروں سے نہیں، گھروں سے زندہ رہتی ہے۔ اگر گھروں میں اردو بولی جائے، اردو کتابیں پڑھی جائیں اور بچوں کو ادب سے جوڑا جائے تو اردو خود بخود زندہ رہے گی۔ زبان سے محبت نصاب سے نہیں، ماحول سے پیدا ہوتی ہے۔میڈیا اور اخبارات پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر معیاری اور شستہ اردو کے بجائے غیر سنجیدہ اور مسخ شدہ زبان پیش کی جائے گی تو نئی نسل اسی کو معیار سمجھے گی۔ ہمیں زبان کے حسن، وقار اور شائستگی کو بحال کرنا ہوگا۔
اردو کسی ایک طبقے یا مکتبِ فکر کی زبان نہیں، بلکہ ایک مشترکہ تہذیبی وراثت ہے۔ اس نے ہمیشہ دلوں کو جوڑا، نفرت کو کم کیا اور فکری توازن پیدا کیا۔ آج جب ہمارا معاشرہ عدم برداشت اور فکری خلفشار کا شکار ہے، اردو زبان ایک بار پھر اعتدال، مکالمے اور تہذیبی ہم آہنگی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔مزید برآں، حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ حکم نامے کے تحت جموں و کشمیر میں پٹواری اور نائب تحصیلدار جیسی اہم سرکاری آسامیوں کی تقرریوں کے لیے اردو زبان کو نظر انداز کرنا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ یہ ایک ایسے تاریخی اور تہذیبی سرمائے کی صریح ناقدری بھی ہے جو اس خطے کی شناخت کا بنیادی جز رہا ہے۔ اردو زبان صدیوں سے اس خطے کے دفتری اور انتظامی نظام کا حصہ رہی ہے۔ عوامی عرضداشتیں، زمین کے کاغذات، عدالتی ریکارڈ اور سرکاری مراسلات بڑی حد تک اردو ہی میں تحریر ہوتے رہے ہیں۔ایسے میں ان اہم آسامیوں کے لیے اردو کو نظر انداز کرنا ایک عملی دشواری کو جنم دے گا۔ جب ایک پٹواری یا نائب تحصیلدار عوام کی زبان سے واقف نہ ہوگا تو وہ نہ صرف مسائل کو صحیح طور پر سمجھنے میں دشواری محسوس کرے گا بلکہ انصاف کی فراہمی میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگی۔ یہ فیصلہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔
یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اردو زبان جموں و کشمیر کے ہر خطے میں پڑھی اور بولی جاتی ہے۔ یہ مختلف علاقوں، ثقافتوں اور طبقات کے درمیان ایک مشترکہ رابطے کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس زبان کو نظر انداز کرنا دراصل اس وحدت کو کمزور کرنا ہے جو اس خطے کی اجتماعی شناخت کا حصہ ہے۔لہٰذا ہم یہ مطالبہ بجا طور پر کرتے ہیں کہ پٹواری اور نائب تحصیلدار کی تقرریوں میں اردو زبان کو لازمی حیثیت دی جائے۔ یہ صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی سہولت، انتظامی بہتری اور تہذیبی بقا کا مسئلہ ہے۔ سرکار پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا نظام وضع کرے جو عوام کے لیے آسان، قابلِ فہم اور مؤثر ہو۔آخر میں یہی کہنا ہے کہ اردو زبان کی حفاظت دراصل ہماری تہذیبی شناخت، فکری خودمختاری اور قومی وقار کی حفاظت ہے۔ اگر ہم نے آج اردو کو اس کا جائز مقام نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں اپنی شناخت کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی۔ اردو ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ حال کی ضرورت اور مستقبل کی ضمانت ہے۔ یہی وہ امانت ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے، اور یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں ہماری فکری اور تہذیبی راہیں منور ہو سکتی ہیں۔
رابطہ۔: 9797888975