عظمیٰ نیوز سروس
راجوری/پونچھ// خطہ پیر پنچال کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں حالیہ موسلا دھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ درجنوں دیہات میں مسلسل دوسرے روز بھی بجلی کی سپلائی معطل رہی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے متعدد مقامات پر بجلی کے کھمبوں، ٹرانسمیشن لائنوں اور بجلی کی تقسیم کے دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ کئی علاقوں میں درخت گرنے اور پہاڑی ملبہ آنے سے بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں، جس کے باعث بجلی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہو گئی۔راجوری ضلع کے بدھل، کوٹرنکہ، درہال، تھنہ منڈی، منجاکوٹ، کالاکوٹ، نوشہرہ اور سندربنی سمیت کئی علاقوں میں بجلی گزشتہ دو دنوں سے بحال نہیں ہو سکی۔ اسی طرح ضلع پونچھ کے مینڈھر، سرنکوٹ، منکوٹ، بالاکوٹ، بفلیاز اور متعدد ملحقہ دیہات بھی بجلی سے محروم ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
رات کے وقت پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے، جبکہ موبائل فون چارج نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا اپنے عزیز و اقارب اور امدادی اداروں سے رابطہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ بجلی بند ہونے سے پینے کے پانی کی فراہمی، چھوٹے کاروبار، طلبہ کی پڑھائی اور صحت سے متعلق بنیادی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق سیلاب نے پہلے ہی مکانات، سڑکوں، پلوں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ بجلی کی مسلسل بندش نے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ موم بتیاں، سولر لائٹس اور بیٹری سے چلنے والے لیمپ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ادھر محکمہ بجلی کے اہلکار مختلف متاثرہ علاقوں میں نقصان کا جائزہ لینے اور بجلی کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم سڑکوں کی بندش، لینڈ سلائیڈنگ اور مسلسل خراب موسم کے باعث مرمتی کام میں دشواری پیش آ رہی ہے۔علاقہ مکینوں نے جموں و کشمیر حکومت، ضلع انتظامیہ راجوری و پونچھ اور محکمہ بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اضافی عملہ اور مشینری تعینات کرکے بجلی کی بحالی کو جنگی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ قدرتی آفت سے متاثرہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جہاں فوری بحالی ممکن نہیں، وہاں عارضی متبادل انتظامات کیے جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔