محمد بشارت
کوٹرنکہ// خطہ پیر پنچال میں حالیہ طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے جہاں دو درجن کے قریب قیمتی انسانی جانیں نگل لیں، وہیں ضلع راجوری کے سب ڈویژن کوٹرنکہ کی پنچایت حلقہ اپر کنڈی کے گاؤں نندن میں ایک غریب خاندان پر ایسا غم ٹوٹ پڑا ہے جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ سیلابی ریلے نے ایک ایسے نوجوان کی جان لے لی جو اپنی بیوہ ماں اور چار بہنوں کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔اپر کنڈی کے نندن گاؤں سے تعلق رکھنے والے جاوید اقبال ولد مرحوم سائیں خان روزگار کی تلاش میں راجوری شہر میں محنت مزدوری کر رہے تھے۔ گزشتہ روز اچانک آنے والے شدید سیلاب کے دوران وہ راجوری شہر کے ملک مارکیٹ علاقے میں لاپتہ ہوگئے۔
سیلاب کی شدت کے باعث انہیں تلاش کرنے میں کافی مشکلات پیش آئیں، جس کے بعد ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف، مقامی رضاکاروں اور دیگر امدادی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔مسلسل کوششوں کے بعد دوسرے روز نوشہرہ کے دبڑ علاقے میں فوج کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے نوجوان کی لاش برآمد کی گئی۔ لاش کو فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال نوشہرہ منتقل کیا گیا، جہاں قانونی کارروائی اور شناخت کے بعد معلوم ہوا کہ متوفی کا تعلق کوٹرنکہ کے گاؤں نندن سے ہے۔جیسے ہی نوجوان کی وفات کی خبر ان کے آبائی گاؤں پہنچی، پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا۔ ہر طرف غم و اندوہ کی فضا قائم ہوگئی، گھروں سے آہ و بکا کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور سینکڑوں افراد غمزدہ خاندان سے تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر زبان پر مرحوم کے حسنِ اخلاق اور محنت کش طبیعت کا تذکرہ تھا۔مقامی نوجوانوں اور دیہاتیوں نے بتایا کہ جاوید اقبال اپنے خاندان کی واحد امید تھے۔ وہ دن رات محنت کرکے اپنی والدہ اور چار بہنوں کی کفالت کرتے تھے۔ ان کے انتقال سے خاندان نہ صرف اپنے عزیز سے محروم ہوگیا بلکہ اس کی معاشی بنیاد بھی مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔مقامی لوگوں نے جموں و کشمیر حکومت، لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور ضلع راجوری کی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس متاثرہ خاندان کو خصوصی مالی امداد، مناسب معاوضہ، رہائشی و معاشی سہارا اور خاندان کے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے تاکہ غمزدہ خاندان مستقبل میں باوقار زندگی گزار سکے۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ ایسے خاندانوں کی مدد حکومت کی ذمہ داری ہے اور جاوید اقبال کے اہل خانہ کے ساتھ ہر ممکن انصاف کیا جانا چاہیے تاکہ ماں اور چار بہنوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔