عظمیٰ نیوز سروس
پونچھ/راجوری//حالیہ موسلا دھار بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے بعد، جن میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، کئی افراد لاپتہ ہوئے اور رہائشی مکانات، سڑکوں، پلوں، زرعی اراضی اور سرکاری ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پیر کے روز پونچھ اور راجوری کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا۔وفد کی قیادت قائد حزب اختلاف سنیل شرما کر رہے تھے، جبکہ اس میں سابق بی جے پی جموں و کشمیر صدر و سابق رکن اسمبلی رویندر رینہ، سابق وزیر و رکن اسمبلی شام لال شرما، رکن اسمبلی موہن لال بھگت، بی جے پی جموں و کشمیر کی نائب صدر و سابق ایم ایل سی شہناز گنائی، جنرل سیکریٹری گوپال مہاجن، ایس ٹی مورچہ کے صدر عبدالغنی، ترجمان زوراور سنگھ جموال سمیت دیگر سینئر رہنما اور مقامی عہدیداران شامل تھے۔وفد نے سب سے پہلے ضلع پونچھ کے سرنکوٹ، دھرہ، سنگلہ اور دیگر متاثرہ دیہات کا دورہ کیا، جہاں رہائشی مکانات، سڑکوں، پلوں، اسکولوں، زرعی اراضی اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا معائنہ کیا۔ اس دوران وفد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کی فوری ضروریات کا جائزہ لیا۔
بی جے پی رہنماؤں نے سیلاب میں جان بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔بعد ازاں وفد راجوری پہنچا، جہاں ان کے ہمراہ بی جے پی ضلع صدر دیوراج شرما اور سابق ایم ایل سی وبودھ گپتا بھی موجود تھے۔ وفد نے راجوری شہر کے بس اسٹینڈ، رام پور، بیلا، شوالیہ مندر، آنند پور آشرم اور دسہرہ گراؤنڈ کے قریب واقع متاثرہ بستیوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ تاجروں، مقامی شہریوں اور خاندانوں سے ملاقات کرکے نقصانات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر بی جے پی رہنماؤں نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے لیے فوری طور پر جامع ریلیف، بازآبادکاری اور تعمیر نو پروگرام شروع کیا جائے، جس کے تحت مناسب معاوضہ، عارضی و مستقل رہائش، خوراک، پینے کے صاف پانی، طبی سہولیات، بجلی، سڑکوں اور دیگر بنیادی خدمات کی جلد بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر متاثرہ خاندان کو بلا امتیاز اور بروقت امداد فراہم کی جانی چاہیے۔وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں، کسانوں، تاجروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے نقصانات کا مکمل سروے کرایا جائے اور انہیں جلد مالی امداد فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی ضلع انتظامیہ راجوری اور پونچھ کو ہدایت دی گئی کہ ریسکیو، ریلیف اور بازآبادکاری کے کاموں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ ہر متاثرہ گاؤں تک شفاف انداز میں امداد پہنچ سکے۔بی جے پی رہنماؤں نے فوج، جموں و کشمیر پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، سول انتظامیہ، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور مقامی رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے انتہائی مشکل حالات میں لوگوں کی جانیں بچانے اور معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے قابلِ ستائش کردار ادا کیا ہے۔وفد نے محکمہ موسمیات کی جانب سے 22 جولائی تک مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر انتظامیہ پر زور دیا کہ حساس علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں، مشینری اور ضروری سامان پہلے سے تعینات کیا جائے، جبکہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے دوچار علاقوں میں انخلا، پناہ گاہوں اور طبی امداد کے مناسب انتظامات کیے جائیں۔بی جے پی وفد نے نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حالیہ قدرتی آفت کے دوران حکومتی موجودگی اور ردعمل عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ریلیف اور بحالی کے کاموں کی براہ راست نگرانی کرے اور ہر متاثرہ خاندان تک بروقت امداد پہنچانا یقینی بنائے۔وفد نے یہ بھی یقین دلایا کہ متاثرہ عوام کے مسائل وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت حکومت ہند کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پونچھ اور راجوری کے لیے ایس اے ایس سی آئی (SASCI) کے تحت خصوصی ریلیف اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا پیکیج منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ مکانات، سڑکوں، پلوں، اسکولوں، طبی مراکز، آبپاشی اور پینے کے پانی کے منصوبوں کی جلد از جلد تعمیر نو ممکن بنائی جا سکے۔