رمیش کیسر
نوشہرہ// ضلع راجوری کے نوشہرہ سب ڈویژن میں واقع مناورا دریا میں گزشتہ دو روز سے پھنسے ہوئے ایک نوجوان کی لاش کو بالآخر پیر کی شام فوج کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ دشوار گزار مقام اور دریا کے تیز بہاؤ کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی پیچیدہ ثابت ہوا، تاہم فوج اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے یہ آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔نوشہرہ کے گاؤں دبڑ کے قریب مناورا دریا کے وسط میں ایک نوجوان کی لاش ایک بلند چٹان کے ساتھ پھنس گئی تھی۔ لاش کے دونوں اطراف دریا کا تیز بہاؤ ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کے لیے اس تک پہنچنا ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کے غوطہ خوروں نے متعدد بار کشتیوں اور دیگر آلات کی مدد سے لاش نکالنے کی کوشش کی، تاہم پانی کے شدید بہاؤ اور خطرناک حالات کے باعث انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پیر کی شام ضلعی انتظامیہ نے فوج سے فضائی مدد طلب کی۔ فوجی ہیلی کاپٹر نے انتہائی احتیاط کے ساتھ ریسکیو آپریشن انجام دیتے ہوئے دریا میں پھنسے نوجوان کی لاش کو باہر نکال لیا، جس کے بعد اسے ضروری قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔بعد ازاں نوجوان کی شناخت جاوید اقبال ولد سائیں خان، ساکن کنڈی، کوٹرنکہ، ضلع راجوری کے طور پر ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جاوید اقبال حالیہ سیلاب کے دوران راجوری شہر میں لاپتہ ہوگئے تھے اور ان کی تلاش جاری تھی۔ادھر پیر کی صبح سے ایک مرتبہ پھر خطے میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جو دوپہر بعد تک وقفے وقفے سے جاری رہا۔ مسلسل بارشوں کے باعث ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ عوام میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ نشیبی علاقوں اور دریا کنارے رہنے والے شہریوں کی حفاظت کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور لوگوں کو غیر ضروری طور پر ندی نالوں کے قریب جانے سے باز رہنے کی ہدایت دی جائے۔