عظمیٰ نیوزسروس
جموں //کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیانے جموں یونیورسٹی کے کام کاج میں متعدد تعلیمی، ضابطہ جاتی اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں لازمی منظوری کے بغیر کورسز چلانا بھی شامل ہے۔سی اے جی نے اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو اپنے الحاقی عمل کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ صرف وہی ادارے الحاق حاصل کریں جو ضابطہ جاتی معیار پر پورا اترتے ہوں، اور تعلیمی معیار کے تحفظ کے لیے جامع معائنہ رپورٹیں تیار کی جائیں۔رپورٹ میں کمزور صنعتی روابط، امتحانی جانچ میں تاخیر اور ناقص پلیسمنٹ نتائج جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی۔
سی اے جی کی رپورٹ (مالی سال 31مارچ 2024کو ختم ہونے والا) کے مطابق یونیورسٹی آٹھ فیکلٹیز کے تحت 38پی ایچ ڈی، 24ایم فل، 50پوسٹ گریجویٹ، 19انڈرگریجویٹ پروگرامز کے علاوہ ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز بھی چلا رہی ہے۔تاہم آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی نے آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن سے صرف دو تکنیکی پروگرامز (MBA اور MCA) کے لیے منظوری حاصل کی، جبکہ چار دیگر تکنیکی کورسز بغیر منظوری کے چلائے جا رہے تھے۔ مزید یہ کہ ایم سی اے پروگرام کونیشنل بورڈ آف ایکریڈیشن سے منظوری حاصل نہیں تھی، جس سے طلبہ کو معیار کی یقین دہانی کے فوائد نہیں مل سکے۔رپورٹ میں تعلیمی معیار سے انحراف کی بھی نشاندہی کی گئی، جس میں AICTE کے ماڈل نصاب پر عمل نہ کرنا اور M.Tech کمپیوٹر سائنس جیسے پروگرامز میں مطلوبہ انفراسٹرکچر کی کمی شامل ہے۔ڈگری کے حوالے سے سی اے جی نے کہا کہ یونیورسٹی،یوجی سی کے رہنما اصولوں کے مطابق کورسز کے نام اور ساخت کو ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہی۔ مثال کے طور پر BBA (ہوٹل مینجمنٹ) کورس پرانے نام اور مدت کے ساتھ جاری رہا، جو یوجی سی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اساتذہ کی تربیت کے پروگرام نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن کی منظوری کے بغیر چلائے جا رہے تھے، اور داخلہ و فیکلٹی کے تقاضوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔تعلیمی اشتراک کے حوالے سے سی اے جی نے یونیورسٹی کو کمزور صنعتی روابط پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ 26 مفاہمتی یادداشتوں میں سے صرف دو فعال تھے جبکہ 20غیر فعال رہے۔ 2019میں قائم کیا گیا انڈسٹری۔اکیڈیمیا پارٹنرشپ سینٹر بھی انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث غیر فعال پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کا انوویشن اور اسٹارٹ اپ نظام بھی کمزور رہا۔ یونیورسٹی بزنس انکیوبیشن اینڈ انوویشن سینٹر (UBIIC) اور اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) زیادہ تر غیر فعال رہے اور ان کی سرگرمیاں صرف ویبینارز تک محدود رہیں۔پلیسمنٹ کے حوالے سے صورتحال تشویشناک رہی۔ 2017سے 2022کے دوران پروفیشنل کورسز میں داخل 1000سے زائد طلبہ میں سے صرف 224کو ملازمت ملی، جبکہ جنرل کورسز کے طلبہ کو تقریباً کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔امتحانی نظام میں بھی سنگین خامیاں پائی گئیں، جن میں مارکس کارڈ میں غلطیاں، جوابی کاپیوں کی غلط جانچ اور ری ایویلیوایشن میں تاخیر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 27فیصد طلبہ کے نتائج ری ایویلیوایشن کے بعد فیل سے پاس میں تبدیل ہوئے، جو جانچ کے نظام میں بڑی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔پی ایچ ڈی مقالوں کی جانچ میں بھی تاخیر دیکھی گئی، جہاں صرف 22فیصد مقالے مقررہ چھ ماہ میں مکمل ہوئے، جبکہ بعض معاملات میں تاخیر چار سال سے زائد رہی، جس سے طلبہ کے تعلیمی سفر پر منفی اثر پڑا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 135امتحانی پرچوں میں نصاب سے باہر سوالات شامل تھے، جس کے باعث دوبارہ امتحانات لینے پڑے اور گریس مارکس دینے پڑے، تاہم ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔تحقیقی منصوبوں میں بھی تاخیر اور نامکمل کام سامنے آیا، جہاں آٹھ منصوبے اخراجات کے باوجود مکمل نہ ہو سکے، اور نگرانی کے نظام کو ناکافی قرار دیا گیا۔مزید برآں، رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 82 فیصد الحاق شدہ کالجز نےنیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیشن کونسل سے منظوری حاصل نہیں کی، جو کہ لازمی تقاضہ ہے۔یہ بھی سامنے آیا کہ کئی کالجز برسوں سے عارضی الحاق پر چل رہے ہیں اور ان میں اہل اساتذہ کی کمی ہے۔ 84کالجز 6 سے 28سال تک عارضی الحاق پر کام کر رہے تھے، جبکہ 51کالجز کی جانچ میں معلوم ہوا کہ 24غیر سرکاری کالجز میں 331اساتذہ میں سے 113مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے۔