اشتیاق ملک
ڈوڈہ //گذشتہ روز ڈوڈہ ضلع میں جہاں آسمانی بجلی گرنے سے ایک 24 سالہ لڑکی فوت ہوئی ہے وہیں قصبہ ٹھاٹھری میں بادل پھٹنے سے ایک مدرسہ عمارت و بی ڈی او دفتر سمیت 30 کے قریب رہائشی و غیر رہائشی مکانات میں ملبہ، پتھر و پانی داخل ہوا ہے جس کے نتیجے میں یہ عمارتیں ناقابل رہائش بن گئیں ہیں. اطلاعات کے مطابق منگل کو بعد دوپہر ڈوڈہ ضلع کے بالائی علاقوں میں شدید بارش و ژالہ باری ہوئی جبکہ ٹھاٹھری و کاستی گڑھ علاقہ میں بادل پھٹنے و آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آئے. اس دوران کشتواڑ بٹوت ڈوڈہ قومی شاہراہ سمیت ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر ٹریفک 5 گھنٹے بعد بحال ہوا جبکہ قصبہ ٹھاٹھری میں 30 کے قریب عمارتوں میں ملبہ، پتھر و سیلاب کا پانی داخل ہوا ہے جس میں بی ڈی او دفتر ٹھاٹھری و ایک مدرسہ کی عمارت بھی شامل ہے.اس دوران کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے. ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر ڈوڈہ انل ٹھاکر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ متاثرہ کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کو راحت پہنچانے و پانی، بجلی و سڑک رابطوں کی بحالی کی ہدایات دیں گئیں ہیں.
بادل پھٹنے سے ٹھاٹھری میں وسیع پیمانے پر تباہی،بی ڈی او دفتر، مدرسہ عمارت سمیت 30 کے قریب رہائشی و غیر رہائشی مکانات ملبہ و سیلاب سے متاثر