فکرو فہم
رئیس رشید
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ یہاں کی سرزمین پر نہ صرف صدیوں پر محیط ثقافتی ورثہ موجود ہے بلکہ جدید دور میں بھی نت نئی ایجادات، خیالات اور تجربات جنم لے رہے ہیں۔ دیہی علاقوں کی روایتی دستکاری ہو یا شہری علاقوں کی جدید طرزِ فکر، گلی کوچوں میں نظر آنے والی چھوٹی چھوٹی جدتیں ہوں یا نوجوان نسل کی جانب سے ٹیکنالوجی، ماحولیات اور طرزِ زندگی کے نئے تصورات،ہر طرف ایک تخلیقی جوش و خروش دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس خام اور منتشر صلاحیت کو ایک مثبت اور بامقصد سمت دینے کے لئے معیاری اور مربوط تعلیم تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔
آج کے دور میں جب ڈیزائن اور تخلیقی علوم کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے تو یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ صرف روایتی طریقہ تعلیم کافی نہیں ہے۔ اب تعلیمی اداروں کو خود آگے بڑھ کر باصلاحیت طلبہ کی تلاش کرنی ہوگی۔ وہ زمانہ گزر چکا جب ادارے صرف درخواستوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے۔ موجودہ حالات میں اداروں کے درمیان ایک صحت مند مگر سخت مقابلہ پیدا ہو چکا ہے جہاں ہر ادارہ بہترین ذہنوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ڈیزائن کو اکثر صرف خوبصورتی یا آرائش سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔ ڈیزائن دراصل مسائل کے حل کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ چاہئے وہ شہری منصوبہ بندی میں شمولیت کو یقینی بنانا ہو، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو عام صارف کے لئے آسان بنانا ہو یا موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پائیدار حل تلاش کرنا ہو،ہر جگہ ڈیزائنرز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں ڈیزائن کی تعلیم اور اس شعبے کے ماہرین کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
جب ذہین، باصلاحیت اور جستجو رکھنے والے طلبہ ایک ہی تعلیمی ماحول میں جمع ہوتے ہیں تو ایک غیر معمولی فکری فضا پیدا ہوتی ہے۔ کلاس روم محض لیکچر سننے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن جاتا ہے جہاں خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے، نئے نظریات جنم لیتے ہیں اور تخلیقی سوچ کو جِلا ملتی ہے۔ طلبہ نہ صرف اساتذہ سے سیکھتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے تجربات، خیالات اور پس منظر سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔ اس باہمی تعامل سے نہ صرف انفرادی صلاحیتیں نکھرتی ہیں بلکہ پورے ادارے کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔
تاہم اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر مالی مسائل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں بہت سے ہونہار طلبہ صرف اس وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے کہ وہ اس کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر وظائف، اسکالرشپس اور مالی معاونت فراہم کریں۔ اس طرح نہ صرف باصلاحیت طلبہ کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا بلکہ تعلیمی اداروں میں تنوع بھی آئے گا جو تخلیقی شعبوں کے لئے نہایت اہم ہے۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ آج کے طلبہ محض ڈگری کے حصول پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ ایک بھرپور تعلیمی تجربہ چاہتے ہیں۔ وہ ایسے اداروں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں انہیں جدید سہولیات، تخلیقی آزادی، تجربات کے مواقع اور عالمی معیار کی رہنمائی میسر ہو۔ جدید لیبارٹریز، ڈیزائن اسٹوڈیوز، ٹیکنالوجی تک رسائی اور بین الاقوامی سطح پر خیالات کے تبادلے کے مواقعے یہ سب عوامل کسی بھی ادارے کو ممتاز بناتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ صنعت سے تعلق اور عملی تجربہ بھی تعلیم کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ جب طلبہ کو حقیقی دنیا کے مسائل پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ ماہرین سے سیکھتے ہیں اور اپنے نظریات کو عملی جامہ پہناتے ہیں جس سے ان کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ تجربہ انہیں نہ صرف بہترین ڈیزائنر بناتا ہے بلکہ ایک کامیاب پیشہ ور، کاروباری شخصیت یا موجد بننے کے لئے بھی تیار کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر بھارت اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط، جامع اور متحرک بنانا ہوگا۔ تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ نہ صرف بہترین ذہنوں کو تلاش کریں بلکہ انہیں ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو ترقی، جدت اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتا ہے۔
[email protected]