ملک کی جمہوری روح اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے شہری، خواہ کسی بھی خطے، زبان، مذہب یا شناخت سے تعلق رکھتے ہوں، خود کو یکساں محفوظ اور باعزت محسوس کریں۔ مگر بدقسمتی سے بیرونِ ریاست کشمیریوں کی ہراسانی کے پے درپے واقعات اس دعوے کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ محض چند انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک سماجی رویے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جو نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ پورے معاشرے کے لئے تشویش کا باعث ہے۔
کشمیری طلبہ، مزدور، تاجر اور ملازمت پیشہ افراد روزگار اور تعلیم کے سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں میں مقیم ہیں۔ ان میں اکثریت محنتی، قانون پسند اور امن کی خواہاں ہے۔ اس کے باوجود بعض مواقع پر انہیں محض شناخت کی بنیاد پر شک، نفرت، تضحیک اور حتیٰ کہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر کسی بڑے سیاسی یا سیکورٹی واقعے کے بعد کشمیریوں کو اجتماعی سزا کے تصور کے تحت نشانہ بنایا جانا ایک خطرناک رجحان ہے۔ یہ رویہ نہ انصاف کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی آئینی اقدار سے۔
ہراسانی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیںجن میںرہائشی مکان خالی کرانے کا دباؤ، تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات، روزمرہ زندگی میں توہین آمیز جملے، یا پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے غیر ضروری پوچھ گچھ شامل ہیں۔ ان سب کا مجموعی اثر ایک مستقل خوف اور عدمِ تحفظ کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی نوجوان طالب علم اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے گھر سے دور نکلتا ہے اور اسے اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہونا پڑے تو یہ ریاستی اور سماجی ناکامی کی علامت ہے۔
اس مسئلے کی جڑیں کئی عوامل میں پیوست ہیں۔ سب سے پہلے غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈا ہے جو پیچیدہ سیاسی تنازعات کو سادہ، جذباتی نعروں میں بدل دیتا ہے۔ دوسرا، اجتماعی ذمہ داری کا وہ غلط تصور ہے جس میں چند افراد کے مبینہ افعال کو پوری برادری سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ تیسرا، میڈیا اور سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو، جو سنسنی خیزی کے ذریعے نفرت کو ہوا دیتی ہے۔ ان عوامل کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور سماجی سطح پر بین الثقافتی آگاہی کی کمی بھی مسئلے کو بڑھاتی ہے۔ہراسانی کے اثرات وقتی نہیں ہوتے۔ ذہنی دباؤ، اضطراب اور احساسِ بیگانگی متاثرہ افراد کی تعلیمی کارکردگی اور پیشہ ورانہ ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔ کچھ طلبہ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ کئی خاندان معاشی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ سماجی ہم آہنگی کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں شہری ایک دوسرے سے خوف زدہ ہوں، ترقی اور استحکام کا خواب کیسے دیکھ سکتا ہے؟
قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو آئین ہر شہری کو مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی شہری کے ساتھ شناخت کی بنیاد پر امتیاز یا ہراسانی نہ صرف اخلاقی طور پر غلط بلکہ قانونی جرم بھی ہے۔ مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ متاثرہ افراد اکثر شکایت درج کرانے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ انہیں مزید مسائل یا انتقامی رویوں کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے فوری اور مؤثر شکایتی نظام ناگزیر ہے، جہاں متاثرہ شخص بلا خوف اپنی بات رکھ سکے۔
میڈیا کا کردار اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ خبر کو سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جائے، زبان محتاط ہو اور کسی بھی گروہ کو بلاوجہ مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کے خلاف سخت نگرانی اور فوری کارروائی بھی ضروری ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی نفرت پھیلانے کا لائسنس نہیں بننی چاہیے۔تعلیمی اداروں اور آجرین کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ زیرو ٹالرینس پالیسیوں، حساسیت کی تربیت، اور بین الثقافتی مکالمے کے پروگرامز کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنایا جا سکتا ہے جہاں تنوع کو طاقت سمجھا جائے، کمزوری نہیں۔ طلبہ یونینز، سول سوسائٹی اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کو بھی آگے بڑھ کر یکجہتی کے پیغامات دینے چاہئیں۔
آخرکار یہ سوال ہم سب کے ضمیر سے مخاطب ہے کہ کیا ہم اپنی شناخت کے خوف کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں؟ کشمیریوں کی ہراسانی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہمارا اجتماعی رویہ جھلکتا ہے۔ اگر ہم نے نفرت، غلط معلومات اور تعصب کو جگہ دی تو نقصان صرف ایک برادری کا نہیں ہوگا،معاشرہ مجموعی طور پر کمزور پڑے گا۔ لیکن اگر ہم انصاف، ہمدردی اور قانون کی بالادستی کو ترجیح دیں تو یہ مسئلہ نہ صرف حل ہو سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، ہم آہنگ اور باوقار معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے بجائے اصولوں، اور نفرت کے بجائے انسانیت کا انتخاب کریں۔ بیرونِ ریاست کشمیریوں کا تحفظ اور احترام محض ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری جمہوری شناخت کا امتحان ہے۔