ڈاکٹر زبیر سلیم
کولیسٹرول
یہ سب میرے ایک سینئرمریض کے سادہ سے واٹس ایپ پیغام سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی لپڈ پروفائل کی تصویر بھیجی تھی۔کل کولیسٹرول 237 mg/dL ۔ — لیب کی ریفرنس رینج سرخ رنگ میں نمایاں تھی۔انہوں نے پوچھا’’ڈاکٹر صاحب، کیا مجھے مزید علاج کی ضرورت ہے؟‘‘
یہ ایک مناسب سوال تھا۔ زیادہ تر لوگ اسی ایک نمایاں نمبر،کل کولیسٹرول پر اٹک جاتے ہیں، بالکل ایسے جیسے میچ کا صرف فائنل سکور دیکھ کر یہ جانے بغیر کہ ہر کھلاڑی نے کیسا کھیلا۔ مگر کولیسٹرول، بالکل صحت کی طرح، کبھی ایک نمبر کی کہانی نہیں ہوتا۔
اس لئے کسی اور دوا کو فوراً شامل کرنے کے بجائے، میں نے انہیں تسلی دی کہ ان کا LDL کولیسٹرول قابلِ قبول حد میں ہے۔ پھر میں نے آہستگی سے دل کی شریانوں کے دیگر خطراتی عوامل پر بات کی:بلڈ پریشر، بلڈ شوگر، سگریٹ نوشی کی تاریخ، خاندانی پس منظر، وزن، جسمانی سرگرمی اور ذہنی دباؤ—اور خوش قسمتی سے یہ سب نارمل تھے۔ آخر میں میں نے نیند کے بارے میں پوچھا۔وہ حیران ہو گئے۔’’نیند؟ ڈاکٹر، میرا مسئلہ کولیسٹرول ہے، نیند نہیں!‘‘۔اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تحریر کیوں ضروری ہے۔
کیا کل کولیسٹرول واقعی ولن ہے؟
کل کولیسٹرول ایک مجموعی نمبر ہے، جس میں شامل ہوتے ہیں:
LDL(خراب کولیسٹرول)
HDL (اچھا کولیسٹرول)
VLDL اور ٹرائگلسرائیڈ کے اجزاء
237 mg/dL کا کل کولیسٹرول بلاشبہ بارڈرکی لائن زیادہ ہے، مگر اصل قلبی خطرہ اس بات پر منحصر ہے کہ اس 237میں کیا شامل ہے۔
سب سے اہم جزLDL کولیسٹرول ہے۔
• عام طور پر صحت مند بالغ افراد کے لیے: LDL < 100 mg/dL بہترین ہے • ذیابیطس یا دل کے مریض (زیادہ خطرہ): LDL < 70 mg/dL • بہت زیادہ خطرے والے افراد (پہلے دل کا دورہ، فالج، متعدد خطراتی عوامل): LDL < 55 mg/dL ، بعض صورتوں میں 40 mg/dL اتنی سختی کیوں؟ کیونکہ دہائیوں کی تحقیق ایک سادہ حقیقت بتاتی ہے کہ کم LDL کا مطلب دل کے دورے، فالج اور اچانک موت کا کم خطرہ ہے۔شریانوں کے معاملے میں ’’زیادہ LDL محفوظ ہے‘‘جیسی کوئی بات نہیں۔اس لیے علاج بڑھانے سے پہلے درست سوال یہ نہیں ہونا چاہیےکہ ’’کیا کل کولیسٹرول زیادہ ہے؟‘بلکہ یہ ہوناچاہئے کہ’’کیا اس مخصوص شخص کے لئے LDL ہدف کے مطابق ہے؟‘‘۔ کولیسٹرول اکیلا نہیں چلتا اب آتی ہے دوسری سطح،وہ جسے اکثر لیب رپورٹس موٹے حروف میں نہیں دکھاتیں۔کولیسٹرول دل کی بیماری کا صرف ایک خطراتی عامل ہے۔ پوری فہرست میں شامل ہیں: • ذیابیطس • ہائی بلڈ پریشر • سگریٹ یا تمباکو کا استعمال • کم عمری میں دل کی بیماری کی خاندانی تاریخ • موٹاپا یا پیٹ کے گرد چربی • جسمانی سرگرمی کی کمی • دائمی ذہنی دباؤ • ناقص نیند • دائمی گردوں کی بیماری • سوزشی (Inflammatory) بیماریاں • بیٹھا رہنے والا طرزِ زندگی • شراب نوشی • غیر صحت بخش غذا (زیادہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، ٹرانس فیٹس، الٹرا پروسیسڈ فوڈ) ان میں سے زیادہ تر عوامل قابلِ تدارک ہیں۔ دو افراد کا کولیسٹرول ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر ان کے دل کے خطرات زمین آسمان کا فرق رکھ سکتے ہیں۔ اسی لئے طرزِ زندگی اور خطراتی پروفائل کے بغیر لیب رپورٹ آدھی تشخیص کے برابر ہے۔ نیند کا سوال جس نے بات کا رخ بدل دیا جب میں نے نیند کے بارے میں پوچھا تو مریض نے اعتماد سے کہا’’میں روز صرف 4سے5گھنٹے سوتا ہوں، ڈاکٹر۔ مگر تازہ دم اٹھتا ہوں۔ نہ نیند آتی ہے، نہ تھکن۔ چالیس سال سے ایسا ہی ہے‘‘۔یہیں سے طب واقعی دلچسپ ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر کم سونے والے (Natural short sleepers) ہوتے ہیں۔ یہ جینیاتی طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی نیند زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ وہ کم وقت میں گہری نیند اور REM نیند کے تمام ضروری مراحل مکمل کر لیتے ہیں۔ طبی لحاظ سے، ایسے افراد: • بغیر الارم کے تازہ دم جاگتے ہیں • دن میں نیند محسوس نہیں کرتے • مزاج، یادداشت اور توجہ مستحکم رہتی ہے • کام کے لئے کیفین پر انحصار نہیں کرتے • بلڈ پریشر اور میٹابولزم نارمل رکھتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے 4سے6گھنٹے کی نیند کافی ہو سکتی ہے۔یہ حیاتیاتی استثنیٰ ہیں، اصول نہیں۔لہٰذا ان کے معاملے میں کم نیند خود بخود خطرے کی علامت نہیں تھی۔ جب کم نیند خاموش خطرہ بن جائے لیکن یہاں ایک نہایت اہم فرق ہے۔اگر کوئی شخص کم سوتا ہےاور ساتھ ہی: • تھکا ہوا یا بے تازگی کے ساتھ جاگتا ہے • دن میں نیند آتی ہے • صبح سر درد ہوتا ہے • زور سے خراٹے لیتا ہے یا سوتے میں سانس رک جاتا ہے • توجہ یا یادداشت میں کمی ہوتی ہے • چڑچڑاپن، بے چینی یا کم مزاجی ہوتی ہے • کام کے لئےبہت زیادہ کیفین درکار ہوتی ہے • بلڈ پریشر، شوگر یا وزن قابو میں نہیں تو کم نیند محض ایک عادت نہیں، بلکہ طبی انتباہ ہے۔ ایسی صورتوں میں ہمیں خدشہ ہوتا ہے: • رکاوٹی نیند کی کمی (Obstructive Sleep Apnea) • دائمی نیند کی کمی • سرکیڈین ردھم کی خرابی سٹریس سے پیدا ہونے والی حد سے زیادہ بیداری • ہارمونل بے ترتیبی جو کولیسٹرول، شوگر اور بلڈ پریشر کو متاثر کرتی ہے اور ہاں—خراب نیند براہِ راست کولیسٹرول کے میٹابولزم کو بگاڑتی ہے اور شریانوں میں سختی (ایتھروسکلروسس) کو تیز کرتی ہے۔ ایسے میں نیند کا معائنہ لپڈ پروفائل جتنا ہی اہم ہو جاتا ہے۔ ایک چھوٹی رپورٹ سے بڑا سبق آخر میں میں نے اپنے مریض کو کیا بتایا؟ نہ یہ بتایاکہ ’’ایک اور گولی لے لیں‘‘،نہ یہ کہا کہ ’’چھوڑیں، صرف 37پوائنٹس زیادہ ہے‘‘۔ بلکہ: 1 ہم نے اُن کے LDL لیول کو اُن کے ذاتی خطراتی پروفائل کے مطابق دیکھا 2 بلڈ پریشر، شوگر، کمر کا گھیراؤ، سرگرمی کی سطح اور خاندانی تاریخ کا جائزہ لیا 3 اُن کی نیند کے انداز کو اُن کے لئے جسمانی طور پر قابلِ قبول تسلیم کیا 4 غذا اور جسمانی سرگرمی کو بہتر بنایا 5 تب جا کر دوا کودرستگی سے ایڈجسٹ کیا،اندھا دھند نہیں حاصل کلام صحت کوئی لیبارٹری نمبر نہیں۔کولیسٹرول کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔نیند صرف گھنٹوں کا نام نہیں، یہ حیاتیات ہے۔رپورٹ میں سرخ یا نمایاں نشان گھبراہٹ نہیں، گفتگو کی شروعات ہونا چاہیے۔اور ایک بظاہر نارمل عادت، جیسے کم نیند، کو بھی سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔کیونکہ اصل سوال کبھی یہ نہیں ہوتا’’کیا یہ نمبر زیادہ ہے؟‘‘،بلکہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے’’اس شخص کے لئے اس نمبر کا مطلب کیا ہے؟‘‘۔اور یہی، کسی بھی گولی سے بڑھ کر، دل کی بیماری سے بچاتا ہے۔