سرینگر //جموں وکشمیرسرکار نے جنوبی کشمیر کے زینہ پورہ شوپیان علاقے میں 440کنال اراضی پر بیرون ممالک سے آنے والے اعلیٰ معیار کے بیچ اور پودوں کی جانچ کیلئے سہولیت سنٹر (پوسٹ انٹری کورنٹین سینٹر) کی تجویز مرکزی سرکار کو بھیج دی ہے اور منظوری ملنے سے یہاں مکمل تحقیق ہوگی جس کے بعد ہی کسانوں میں اعلیٰ معیار کے پودے اور بیچ تقسیم کئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ حکام زائورہ سرینگر میں 9.2کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ایسے سکول یعنی سنٹر آف ایکسی لنس کی تعمیر کر رہی ہے، جہاں کسانوں کو اپنی فصلوں میں لگنے والی بیماریوں اور باغات میں مٹی کی جانچ کے تجزیئے قبل ہی مل جائیں گے۔ جموں وکشمیر حکام وادی میں باغبانی شعبہ میں میوہ کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس میں جدید تکنیک شامل کرنے پر دھیان مرکوز کررہی ہے۔باغبانی کے شعبہ کو جدید لائنوں پر استوار کرنے کی غرض سے زینہ پورہ شوپیان میں 440کنال اراضی پر ایک سہولت سینٹر بنانے کی تجویز ہے، تاکہ اعلیٰ معیارر کے سیب، بادام اور اخروٹ کے درخت یہاں پر ہی تیار کئے جائیں۔اس سہولت سنٹر کیلئے رقومات نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ اور نیشنل سیڈ کارپوریشن نرسری تیار کرنے کیلئے رقومات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔محکمہ باغبانی کے منظور احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ (پوسٹ انٹری کورنٹین سینٹر )ایک ایسا مرکز ہو گا جس میں باہر سے آنے والے اعلیٰ معیار کے پودوں اور بیچ کی جانچ ہو گی اور اس کو 14دن تک کورنٹین سنٹر میں رکھنے کے بعد ہی کسانوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کبھی ہم باہر سے بیچ یا پودے لاتے ہیں ان میں بیماری ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ کشمیر میں میوہ کو لگنے والی بیماریوں کی وقت سے قبل جانکاری ،درختوں کو تیار کرنے،پیکیجنگ کی تربیت وغیرہ شامل ہیں۔مٹی کی جانچ کیلئے سرینگر کے زائورہ علاقہ میں ایک سکول کی تعمیر ہو رہی ہے اس سکول کو سنٹر آف ایکسیلنس کا نام دیا گیا ہے جس پر 9.2کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے ۔اس نئے طرز کے سکول کی تعمیر سے کسانوں کو فائدہ ہو گا ، اس سے قبل جب بھی میوہ کو کوئی بیماری لگتی تھی تو اس کے متعلق کسانوں کو وقت پر کوئی بھی جانکاری نہیں ملتی تھی لیکن محکمہ کا کہنا ہے کہ اس سنٹر فا ر ایکسلنس کی تعمیر سے نہ صرف کسانوں کو بیماریوں کے متعلق وقت سے قبل جانکاری ملے گی بلکہ انہیں میوہ باغات میں مٹی کی جانچ ، میوہ کی پیکیجنگ کے بارے میں بھی تربیت بھی دی جائے گی ۔محکمہ کے ڈائریکٹر اعجاز احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں میوہ صنعت کے ساتھ 33لاکھ افراد بالواسط ،یا بلاواسطہ وابستہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں 15000میٹرک ٹن گلاس کی فصل 2691اراضی پر ہوتی ہے جبکہ 200000میٹرک ٹن سیب یہاں تیار ہوتے ہیں ۔اسی طرح 191293میٹرک ٹن اخروٹ اور7790میٹرک ٹن بادام کی فصل تیار ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ہاٹیکلچر بورڈ حکومت ہند نے براکہ پورہ اننت ناگ میں قائم نرسری کو 2ستاروں کے زمرے میں رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میوہ صنعت کو فروغ دینے کیلئے محکمہ نے مالکان باغات کو اعلیٰ معیار کے اخروٹ، سیب اور بادام کے درخت فراہم کرنے کے علاوہ دیگر کئی ایک سکیموں پر بھی کام شروع کر دیا ہے ۔ڈائریکٹر باغبانی کا کہنا ہے کہ محکمہ نے 5ہزار کنال پر اعلیٰ معیار کے پودوں کی شجرکاری کی ہے، جبکہ 10لاکھ کولن روٹ پلانٹ کسانوں میں تقسیم کئے گئے ۔ بٹ نے مزید بتایا کہ 90فیصد سبسڈی پر 4لاکھ پودے ایک لاکھ کنبوں میں تقسیم کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ 20ہزار اخروٹ کے اعلیٰ معیار کے پودے اگلے سال کسانوں میں تقسیم کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اخروٹ کے علاوہ بادام کی نرسریاں بھی قائم کی گئی ہیں ۔2020.21کے دوران 5ہزار کنال رقبہ پر زیادہ پیداوار دینے والے سیب کے درخت لگائے گئے ہیں اور مزید5240 کنال اس کیلئے مختص کئے گئے ہیں تاکہ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے ۔گذشتہ سال 3.5لاکھ میوہ درخت 87ہزار 7سو کنبوں میں 90فیصد سبسڈی پر تقسیم کئے گئے اور اس سال12لاکھ پودے 3لاکھ کنبوں میں تقسیم کئے جائیں گے ۔جن پر 7کروڑ روپے کی لاگت آئے گی ۔