عظمیٰ ویب ڈیسک
جے پور/فوج کے سربراہ جنرل اُپیندر دویدی نے جمعرات کو کہا کہ بھارتی فوج خود کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ایک مضبوط اور جدید فورس کے طور پر تیار کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی سازوسامان نہایت اہم ہے، جسے انہوں نے ’’اسٹریٹجک ضرورت‘‘قرار دیا۔آرمی ڈے پریڈ کے بعد جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ بھارتی فوج مستقبل کے لیے تیار ایک فورس بن کر آگے بڑھ رہی ہے، جس کے پاس اچھی طرح تربیت یافتہ جوان، جدید سازوسامان اور کثیر جہتی آپریشنل صلاحیتیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے فوجی کو مزید باصلاحیت بنایا جا رہا ہے۔
آرمی سربراہ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارتی فوج کی سوچ میں واضح تبدیلی آئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹ نہیں رہے بلکہ مستقبل کی جنگوں کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔ اس سمت میں نئی ساختیں قائم کی جا رہی ہیں، جنہیں مستقبل کی ضروریات کے مطابق سازوسامان اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھیرَو بٹالین اور شکتی بان ریجمنٹ جیسی نئی یونٹس قائم کی گئی ہیں، جو ایک چست، تیز رفتار اور مشن پر مبنی فوج کی تشکیل کی عکاس ہیں، جو مستقبل کے چیلنجز سے ہم آہنگ ہے۔
جنرل دویدی نے کہا کہ اس سال کی پریڈ روایت اور تبدیلی کا حسین امتزاج تھی۔انھوں نے کہا نیپال آرمی بینڈ نے ہمارے مضبوط تعلقات کی عکاسی کی، جبکہ نئی یونٹس نے فوج کی ابھرتی ہوئی طاقت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی فوج ہر وقت کسی بھی قسم کے حملے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور مستقبل کی جنگی صورتحال کے لیے بھی تیاری جاری رہے گی۔انھوں نے کہا ہم وقت کے ساتھ خود کو ڈھالتے رہیں گے اور ضروری تبدیلیاں لاتے رہیں گے۔
آرمی سربراہ نے کہا کہ پریڈ میں ’میک اِن انڈیا‘ سازوسامان کی نمائش سے یہ پیغام ملا کہ تبدیلی کی بنیاد خود انحصاری ہے۔انھوں نے کہا فوج کو مستقبل میں ایسے سازوسامان کی ضرورت ہے جو بھارت میں ہی ڈیزائن اور تیار کیا جائے۔ مقامی سازی اب صرف ایک ہدف نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایسے وسائل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جو فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے مفید ہوں اور ملک کی مجموعی ترقی میں کردار ادا کریں۔
جے پور میں آرمی ڈے پریڈ کے انعقاد پر بات کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ راجستھان وہ سرزمین ہے جہاں بے شمار ہیروز نے تاریخ رقم کی، اسی لیے اس مقام کا انتخاب کیا گیا۔روس-یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ کی مدت کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، مستقبل کی جنگیں چند دنوں کی بھی ہو سکتی ہیں اور کئی برسوں تک بھی کھنچ سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کارکردگی میں اضافہ ضرور کرتی ہے، مگر یہ افرادی قوت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔انھوں نے کہا کہ چھوٹی یونٹس زیادہ کامیاب ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ نئی یونٹس میں رفتار اور چستی زیادہ ہے۔
جنرل دویدی نے کہا کہ بھیرَو بٹالین کو گھاتک اور اسپیشل فورسز کے درمیان خلا کو پُر کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، اور مستقبل میں مزید تبدیلیاں بھی آئیں گی۔انھوں نے کہا کہ میدانِ جنگ تیزی سے بدل رہا ہے اور ہمیں بھی تیزی سے خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) نہایت ضروری ہے۔
انھوں نے کہا اگر بھارت طویل جنگ لڑنا اور مکمل خود انحصاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو سازوسامان کی تیاری اور مرمت ملک کے اندر ہی ہونی چاہیے۔دویدی نے کہا کہ اس مقصد کے لیے بھارتی فوج، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انفارمیشن وارفیئر میں ساکھ (Credibility) انتہائی اہم ہے۔
بھارتی فوج مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار: جنرل دویدی