عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی جانب سے داچھی گام نیشنل پارک میں منعقدہ حکومتی جائزہ اجلاس پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دچی گام دراصل موجودہ حکومت کی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔
سجاد لون نے سماجی رابط گاہ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جس “بڑے اعلان” کا تذکرہ کیا جا رہا تھا، وہ دراصل ایک سیاحتی دورہ ثابت ہوا۔
سجاد لون نے داچھی گام اور موجودہ حکومت کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ داچھی گام ایک الگ تھلگ، محدود اور مخصوص افراد کے لیے قابلِ رسائی مقام ہے، اور یہی کیفیت آج کی حکومت کی بھی ہے۔
انہوں نے کہا، “داچھی گام دراصل آج کے اجتماع کی علامت ہے۔ یہ الگ تھلگ ہے، تنہا ہے اور یہاں داخلہ محدود ہے۔ یہی موجودہ حکومت کی حالت کا خلاصہ ہے؛ ایک ایسی حکومت جو عوام سے دور، الگ تھلگ اور محدود رسائی والی بن چکی ہے۔”
طنزیہ انداز میں سجاد لون نے مزید کہا کہ اراکینِ اسمبلی کو داچھی گام کے جنگلی حیات کے علاقے میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں ایک پیغام دیا جائے گا کہ “صف میں شامل ہو جائیں، ورنہ یہیں رہ کر چڑیا گھر کے مکینوں کا ساتھ دیں۔” انہوں نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ “چڑیا گھر کے مکین بھی اس صورتحال پر حیران ہیں۔”۔
داچھی گام میں حکومتی اجلاس پر سجاد لون کا طنز، کہایہی موجودہ حکومت کی اصل تصویر