عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے جمعرات کے روز کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کی کامیابی کے لیے امریکہ کو اسرائیل کو “قابو میں” رکھنا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تنازعہ ایران نے شروع نہیں کیا بلکہ اس پر “مسلط” کیا گیا ہے۔
سرینگر کے (ایس کے آئی سی سی) میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “اگر جنگ بندی ناکام ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ صرف اسرائیل ہوگا۔ امریکہ کو اسرائیل کو لگام دینا ہوگی۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ واشنگٹن سے آنے والے بیانات میں تسلسل کا فقدان ہے۔ “وہ صبح کچھ کہتے ہیں، دوپہر میں کچھ اور اور شام کو کچھ اور۔ جس قسم کی زبان وہ استعمال کرتے ہیں وہ کسی کو زیب نہیں دیتی، ایک صدر کو تو بالکل بھی نہیں،” انہوں نے کہا، مزید یہ بھی کہا کہ ایسی زبان استعمال کرنے پر عام صارفین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلاک کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ امریکی صدر سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے ان کی بار بار کی دھمکیوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ “سب سے پہلے اس جنگ کا مقصد واضح ہونا چاہیے تھا۔”
ہندوستان کے سفارتی مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ نئی دہلی کے قریبی تعلقات شاید اسے ثالثی کے کردار سے دور رکھتے ہیں۔ “صرف اسرائیل کو اس جنگ کی ضرورت تھی۔ اگر ہمارے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اتنے قریبی نہ ہوتے تو شاید بھارت پاکستان کی طرح کوئی کردار ادا کر سکتا تھا۔
اسرائیل کو قابو میں لائے بغیر جنگ بندی نا ممکن: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ