عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکنِ اسمبلی تنویر صادق نے بدھ کے روز قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں کافی پلائیں گے اور یاد دلائیں گے کہ یہ جموں و کشمیر ہے، آسام نہیں۔نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے تنویر صادق نےکہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر کی سیاسی حقیقتوں سے کٹی ہوئی ہے اور نیشنل کانفرنس ہی عوام کی پہلی پسند رہے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بعض لیڈر زمینی حقائق اور عوامی مزاج کو سمجھے بغیر بیانات دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’وہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ آسام سے آئے ہیں اور جموں و کشمیر کی سیاست کو بھول گئے ہیں۔ میں ان کے گھر جاؤں گا، انہیں کافی پلاؤں گا تاکہ وہ بیدار ہوں اور سمجھیں کہ یہ جموں و کشمیر ہے، آسام نہیں۔‘‘
تنویر صادق نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت میں اس لیے ہے کیونکہ عوام نے اسے ووٹ دیا ہے۔ ’’ان شاء اللہ، جب پانچ سال بعد دوبارہ انتخابات ہوں گے تو نیشنل کانفرنس پھر اقتدار میں آئے گی۔ این سی کے بغیر یہاں کوئی بھی حکومت نہیں بنا سکتا۔‘‘اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ کھیل اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیتے ہیں، وہ معاشرے کو بہتر سمجھتے ہیں، بہ نسبت اُن لوگوں کے جو منشیات اور منفی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بیک ڈور تقرریوں اور بدعنوانی کے الزامات کو ’’بے بنیاد اور بار بار دہرائے جانے والے سیاسی بیانیے‘‘ قرار دیتے ہوئے ناقدین کو چیلنج کیا کہ وہ حکومت کے خلاف ثبوت پیش کریں۔انہوں نے کہا، ’’اگر وہ فہرستیں سامنے لائیں گے تو دنیا جانتی ہے کہ ماضی میں بیک ڈور تقرریاں اور تبادلے کس نے کیے۔ وہ ثابت کریں کہ ہماری حکومت یا ہمارے وزراء نے ایک بھی غیر قانونی تقرری یا تبادلہ کیا ہو۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر کفایت شعاری کے اقدامات سے متعلق بیان پر تنویر صادق نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، تاہم احتیاطی تدابیر مناسب ہیں۔انہوں نے کہا، ’’عالمی صورتحال تشویشناک ہے۔ وزیر اعظم نے تیاری بہتر بنانے اور آن لائن سہولیات میں بہتری کی بات کی ہے۔ اگر کفایت شعاری کے اقدامات تجویز کیے جا رہے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن عوام میں خوف و ہراس نہیں ہونا چاہیے۔‘‘غیر ضروری قافلوں کے استعمال میں کمی کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں وزراء اور اراکینِ اسمبلی عموماً سیکورٹی خدشات کے باعث صرف حفاظتی گاڑیوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔