عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے آج سرینگر کے نوگام علاقے کے نایک باغ، اقبال کالونی میں واقع دارالعلوم کا دورہ کیا، جہاں پیر کے روز پیش آئے آتشزدگی کے ایک واقعے میں مدرسے کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے دارالعلوم کے منتظمین سے ملاقات کی، جنہوں نے انہیں واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور آگ سے ہونے والے نقصان کا معائنہ کرایا۔
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے حکومت سے اپیل کی کہ مدرسے کی متاثرہ عمارت کی دوبارہ تعمیر کے لیے مالی امداد اور لکڑی کی فراہمی سمیت دیگر ضروری تعاون فراہم کیا جائے۔
دریں اثنا، ایک سوال کے جواب میں سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی عائد کرنا مکمل طور پر منتخب حکومت کے اختیار میں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جس طرح تمل ناڈو حکومت نے مندروں، اسکولوں اور دیگر حساس مقامات کے قریب واقع سیکڑوں شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا سخت فیصلہ لیا، اسی طرح ہماری حکومت کو بھی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی خواہشات کے مطابق یہاں شراب پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’انہیں کون روک رہا ہے؟ منتخب حکومت کے پاس 50 سے زائد ارکانِ اسمبلی موجود ہیں۔ یہاں شراب پر پابندی عائد کرنا مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہے۔‘‘