عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/سپریم کورٹ نے پیر کے روز مشہور ہندواڑہ نارکو ٹیرر کیس میں ملزم سید افتخار اندرابی کو ضمانت فراہم کرتے ہوئے واضح کیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون (یو اے پی اے) جیسے سخت قوانین کے تحت بھی”ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا“۔
جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اوجل بھویان پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا، جسے جسٹس بھویان نے تحریر کیا۔ عدالت نے کہا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے تحت ضمانت پر عائد پابندیاں بھی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 کے دائرے میں رہ کر ہی نافذ ہو سکتی ہیں۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ تیز رفتار ٹرائل کا حق صرف اس بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا کہ ملزم پر ملی ٹینسی مخالف قانون کے تحت مقدمہ درج ہے۔
سپریم کورٹ نے ایک اہم مشاہدہ کرتے ہوئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی سزا دلانے کی شرح پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ خاص طور پر جموں و کشمیر میں این آئی اے کی کنوکشن ریٹ ایک فیصد سے بھی کم بتائی جاتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسی صورتحال میں کسی زیرِ سماعت ملزم کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنا، مقدمہ مکمل ہونے سے پہلے ہی سزا دینے کے مترادف ہے۔
بنچ نے سابقہ عدالتی فیصلوں کی تشریح پر بھی اہم ریمارکس دیے اور ”گلفیشہ فاطمہ بنام ریاست“ کیس کے فیصلے پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب کیس اب بھی ایک قابلِ عمل اور پابند نظیر ہے، جسے کمزور یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق، اگر کسی مقدمے میں ٹرائل میں تاخیر ہو اور ملزم طویل عرصے سے قید میں ہو تو یو اے پی اے جیسے معاملات میں بھی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض چھوٹے بنچ، بڑے بنچوں کے فیصلوں کو مناسب طریقے سے نظرانداز کرتے ہیں۔ عدالت نے خاص طور پر ”گروِندر سنگھ بنام ریاست پنجاب“اور ”گلفیشہ فاطمہ بنام ریاست“ جیسے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں “کے اے نجیب” فیصلے میں طے شدہ اصولوں کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
عدالت نے عدالتی نظم و ضبط کے اصول کو دہراتے ہوئے کہا کہ کم ججوں پر مشتمل بنچ، بڑے بنچ کے فیصلوں کا پابند ہوتا ہے اور اگر کسی فیصلے پر اختلاف ہو تو معاملہ بڑے بنچ کو بھیجا جانا چاہیے، نہ کہ اس فیصلے کو کمزور کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے بھی اختلاف کیا، جس میں سید افتخار اندرابی کو طویل قید کے باوجود ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صرف الزامات کی سنگینی یا ابتدائی شواہد کی بنیاد پر کسی زیرِ سماعت ملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
سپریم کورٹ میں سید افتخار اندرابی کی پیروی سینئر ایڈووکیٹ شادان فراست نے کی، جبکہ ان کے ساتھ ایڈووکیٹ عمیر اندرابی، ایڈووکیٹ تنیشا اور دیگر وکلا بھی شامل تھے۔ ایڈووکیٹ تنیشا جموں سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ایڈووکیٹ عمیر وادی کشمیر سے ہیں۔
عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور کہا کہ شخصی آزادی اور فوری انصاف جیسے آئینی حقوق کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے، اور یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کو غیر معینہ قید کا جواز بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ہندواڑہ نارکو ٹیرر کیس: سپریم کورٹ نے سید افتخار اندرابی کو دی ضمانت