عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کی وزیر صحت و تعلیم سکینہ ایتو نے جمعرات کو مبینہ ’’نیٹ-یو جی پیپر لیک‘‘ معاملے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دھوکہ دہی میں ملوث تمام افراد کو، چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، سخت سزا دی جانی چاہیے۔سکینہ ایتو نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مبینہ فراڈ نے اُن طلبہ کو شدید متاثر کیا ہے جنہوں نے ملک کے سب سے مشکل اور مسابقتی امتحانات میں سے ایک میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے برسوں محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ بچے اس امتحان میں کامیابی کے لیے بہت سخت محنت کرتے ہیں اور اپنی پوری توانائی صرف کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ایسے امتحانات میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی دراصل مستحق طلبہ کے مستقبل اور کیریئر کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔سکینہ ایتو نے زور دے کر کہا، ’’تحقیقات مکمل شفافیت اور صحیح طریقے سے ہونی چاہیے۔ جو بھی اس میں ملوث پایا جائے، اُس کے خلاف سخت کارروائی اور کڑی سزا دی جانی چاہیے۔‘‘
حکومت کی جانب سے سرکاری گاڑیوں میں کمی اور اس سے متعلق دیگر اقدامات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی قدم سے ملک کے مسائل کم کرنے میں مدد ملتی ہے تو ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ملک میں کوئی مسئلہ ہے اور ہم کسی بھی طرح اسے کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘حالیہ حالات کے پیش نظر تعلیم کو آن لائن یا ورچوئل انداز میں منتقل کیے جانے سے متعلق خبروں پر انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
سکینہ ایتو کا مبینہ ’نیٹ پیپر لیک‘معاملے کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ