عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت کام کرنے والے درجنوں ملازمین نے بدھ کے روز سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کے حق میں 48 گھنٹے کے دھرنے کا آغاز کیا۔
مظاہرین نے اپنے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ دیگر ریاستوں کے مطابق فوری طور پر تنخواہوں میں نظرثانی، ملازمت کا تحفظ اور سماجی تحفظ کی سہولیات جیسے ای پی ایف، ای ایس آئی، انشورنس اور ریٹائرمنٹ کے بعد معاونت فراہم کی جائے۔ملازمین کا کہنا تھا کہ بارہا یقین دہانیوں کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے باعث انہیں سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ این ایچ ایم ملازمین خاص طور پر ہنگامی حالات میں صحت کی خدمات کی فراہمی میں صفِ اول میں رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں اجرت اور ملازمت کے تحفظ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو پورا نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں احتجاج میں شدت لائی جا سکتی ہے، جبکہ موجودہ دھرنا 48 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ ملازمین کی تنظیم پہلے ہی اپنے مطالبات کے حق میں جموں و کشمیر بھر میں 48 گھنٹے کے دھرنے کا اعلان کر چکی تھی۔
سرینگر میں این ایچ ایم ملازمین کا 48 گھنٹے کا دھرنا، مطالبات کے حق میں احتجاج تیز