عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا نے قومی شاہراہوں کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتھارٹی نے ٹیلی کام ڈپارٹمنٹ اور ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور ہنگامی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے ان تمام حصوں پر بہتر موبائل کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے۔این ایچ اے آئی نے ملک بھر میں 424 ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں موبائل نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ یہ تقریباً 1,750 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ کا علاقہ ہے جو نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے شدید متاثر ہے۔
اتھارٹی کا موقف ہے کہ موبائل سروس نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کے دوران بروقت مدد پہنچانا ناممکن ہو جاتا ہے، جو مسافروں کی جان کے لیے خطرہ ہے۔ٹرائی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت دے کہ وہ حادثات کا شکار ہونے والے مقامات پر پہنچنے والے مسافروں کو ایکٹیو ایس ایم ایس یا فلیش الرٹس بھیجیں۔ان علاقوں کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے جہاں آوارہ مویشیوں کی وجہ سے حادثات کا خطرہ زیادہ رہتا ہے، تاکہ وہاں بھی نیٹ ورک کے ذریعے الرٹس بھیجے جا سکیں۔ایمرجنسی سروسزنیٹ ورک نہ ہونے سے ایمبولینس یا پولیس کو بروقت اطلاع دینا مشکل ہوتا ہے۔ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات ڈیجیٹل ادائیگی (FASTag) اور جی پی ایس (GPS) جیسی خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں گاڑی خراب ہونے کی صورت میں مسافر خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
این ایچ اے آئی کا قومی شاہراہوں کے ہر حصے میں موبائل سروس فراہم کرنے پر زور