عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے جمعہ کے روز کہا کہ نیشنل کانفرنس اسپیکر کے غیر منصفانہ اور جانبدارانہ اقدامات کو درست ثابت کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کا فیصلہ ہمیشہ قائم شدہ پارلیمانی روایات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
پریس کے نام جاری ایک بیان میں سنیل شرما نے نیشنل کانفرنس کے اس دعوے پر ردعمل ظاہر کیا کہ پارلیمنٹ میں 62.5 فیصد کمیٹی چیئرمین شپ حکمران جماعت کو اور 37.5 فیصد اپوزیشن کو دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ این سی 2024 میں کمیٹی سربراہوں کی تقرری کا حوالہ دے رہی ہے، لیکن اسپیکر کو بچانے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’این سی جان بوجھ کر یہ حقیقت چھپا رہی ہے کہ 62.5 فیصد محکمانہ متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ صرف بی جے پی کو نہیں بلکہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو دی گئی تھی، یعنی 24 میں سے 15 کمیٹیاں۔ جبکہ 37.5 فیصد چیئرمین شپ اپوزیشن جماعتوں کو ملی تھیں، یعنی 24 میں سے 9۔ اگر یہی تناسب جموں و کشمیر اسمبلی میں لاگو کیا جائے تو بی جے پی کو تین، حکمران جماعتوں کو پانچ، اور ایک چیئرمین شپ آزاد اراکین یا کسی دوسری اپوزیشن جماعت کو ملنی چاہیے۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ اسپیکر نے جموں و کشمیر اسمبلی کی 89 فیصد کمیٹیوں کی چیئرمین شپ حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کو دے دی ہے، جو ایوان میں جماعتوں کی نمائندگی کے سراسر خلاف ہے۔سنیل شرما نے کہا کہ اسپیکر کو پارلیمنٹ میں ایسی کمیٹیوں کے سربراہوں کی تقرری کے طریقہ کار کا مطالعہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی ہمیشہ اپوزیشن جماعت کے پاس ہوتی ہے، اور جموں و کشمیر میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے، لیکن چھ غیر مالیاتی کمیٹیوں کے سربراہ مقرر کرتے وقت اپوزیشن کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں کمیٹی آن گورنمنٹ اشورنسز کی سربراہی بھی اس وقت اپوزیشن کے پاس ہے۔
اسپیکر کے اقدامات کو جائز ٹھہرانے کے لیے نیشنل کانفرنس جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے: سنیل شرما