عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے جمعہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت پر پابندی کے مطالبے کو لے کر نکالے گئے احتجاجی مارچ پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔نیشنل کانفرنس نے اپنے ایکس میڈیا ہینڈل کے ذریعے ایک سخت بیان جاری کیا اور بی جے پی سے سابقہ حکومتوں میں نافذ کی گئی شراب پالیسیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔پارٹی نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم بی جے پی کے ان 20 کارکنوں کے جذبات کا مکمل احترام کرتے ہیں۔‘‘
نیشنل کانفرنس نے مزید سوال کیا کہ 2017 کی ایکسائز پالیسی، جس میں میونسپل وارڈز اور تحصیلوں کو شراب کی غیر محدود فروخت کے علاقوں کی بنیاد بنایا گیا تھا، اُس وقت جموں و کشمیر میں کس کی حکومت تھی؟پارٹی نے 2022 کے اُس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت گراسری اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز میں شراب کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی، اور پوچھا کہ اُس وقت کون سی انتظامیہ برسراقتدار تھی۔نیشنل کانفرنس نے کہا کہ بی جے پی کو موجودہ احتجاج سے پہلے اپنی سابقہ پالیسیوں اور فیصلوں پر بھی وضاحت دینی چاہیے۔
شراب پر سیاست تیز، نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کی یاد دلائی 2017 اور 2022 کی شراب پالیساں