عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پولیس نے سول انتظامیہ کے تعاون سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف ایک بڑی مہم کے دوران سرکاری زمین پر تعمیر کردہ کروڑوں روپے مالیت کی غیر قانونی املاک کو زمین بوس کر دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی قومی شاہراہ کے کنارے واقع اسٹیٹ سنگم کے علاقے میں عمل میں لائی گئی۔ اس دوران سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی کئی عمارتوں کو ڈھایا گیا، جنہیں سڑک کے کنارے ڈھابوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ املاک ان افراد کی ملکیت تھیں جو منشیات کے کاروبار ( این ڈی پی ایس ایکٹ) سے متعلق مختلف مقدمات میں ملوث پائے گئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ گرائی جانے والی عمارتوں میں کشمیر ریستوراں (ڈھابہ) کے مالکان گل محمد میر اور بشیر احمد میر ساکن ڈونی پورہ سنگم بتائے جاتے ہیں۔ ان دونوں کے خلاف تھانہ بجبہارا میں منشیات فروشی کے مختلف مقدمات درج ہیں۔
میر ریستوراں ان کے بھائی امہ میر کی ملکیت تھی جو مذکورہ دو ڈھابوں کے درمیان واقع تھی اور غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ “یہ تمام عمارتیں بغیر کسی اجازت کے سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی تھیں۔ یہ کارروائی قانونی ضابطوں کے تحت کی گئی ہے، جو منشیات کے اسمگلروں اور زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف اننت ناگ پولیس کے سخت عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے 100 روزہ ‘نشہ سے فری جموں کشمیر’ مہم کے آغاز کے بعد سے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ڈرگ کنٹرول حکام کے ساتھ مل کر میڈیکل اسٹورز کا معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ ممنوعہ ادویات کی فروخت روکی جا سکے۔
اننت ناگ میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی