عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج کپواڑہ کے ولیج ترہگام کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور کئی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی لوگوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل اور ضروریات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت میں حکومت ہند سرحدی دیہات کی ہمہ جہت ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر گاؤں کو ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکیں، جدید اسکول اور نوجوانوں کے لیے بھرپور مواقع ملنے چاہئیں، اور یہی وژن 2019 کے بعد کپواڑہ کے سرحدی دیہات کو ماڈل ولیج بنانے کی بنیاد ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ مرکزی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ ترہگام کے ہر بچے کو وہی معیاری تعلیم حاصل ہو جو جموں و کشمیر کے شہری علاقوں میں دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کے کسانوں کو معیاری بیج، قابلِ اعتماد آبپاشی اور مضبوط منڈی روابط میسر ہوں۔ ترہگام نے خود روزگار کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے جہاں 205 سیلف ہیلپ گروپس اور مشن یوتھ کے تحت 85 یونٹس پہلے ہی فعال ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ٹیٹوال میں تاریخی شاردا مندر کی بحالی نے سیاحت کے شعبے کو نئی زندگی بخشی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2018-19 میں صرف 6,900 سیاح کپواڑہ آئے تھے، جبکہ 2024-25 میں یہ تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 77 ہزار ہو گئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایک یا دو برسوں میں ہر سرحدی گاؤں اپنی خوشحالی کی نئی داستان لکھے گا۔انہوں نے یاد دلایا کہ 5 اکتوبر 2020 کو انہوں نے مژھل کا دورہ کیا تھا اور کیرن و مژھل علاقوں کو 70 برس بعد گرڈ پاور سے جوڑا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کپواڑہ کے تقریباً 70 فیصد خاندانوں تک بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی تھی، لیکن صرف چار برسوں میں یہ دائرہ بڑھ کر 95 فیصد گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ سرحدی دیہات میں ٹیلی کام کنیکٹیویٹی اب 88 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ سال کے آخر تک اسے 100 فیصد بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی اور پی ڈبلیو ڈی کے ذریعے 16 میں سے 15 وائبریٹ ولیجز کو ہر موسم کی سڑکوں سے جوڑا جا چکا ہے، جبکہ آخری گاؤں کے لیے بھی مرکزی حکومت سے فنڈنگ موصول ہو چکی ہے اور جلد کام شروع ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر نے وائبریٹ ولیج فیز-2 پروگرام کے تین اہم ستونوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جسمانی و ڈیجیٹل رابطہ مضبوط بنانا، تعلیمی ڈھانچہ بہتر کرنا اور تمام مرکزی و یو ٹی اسکیموں کی مکمل عمل آوری شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف سرکاری اسکیموں تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) فنڈز سے خطے میں اسٹیڈیم اور کھیل کے میدان تعمیر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے ملی ٹینسیکے متاثرین اور سیلاب زدہ خاندانوں کی مکمل بازآبادکاری کے لیے حکومت ہند کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے 6 وائبریٹ بلاکس میں 26 اسمارٹ کلاس رومز کے قیام کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ ترہگام میں 1.60 کروڑ روپے کی لاگت سے ہل ٹاپ پلے گراؤنڈ اور 1.94 کروڑ روپے کی لاگت سے شیو مندر کی ترقی، تزئین و مرمت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔انہوں نے ایس پی اوز کو تقرری نامے، مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع اور مختلف اسکیموں کے تحت منظوری نامے بھی تقسیم کیے۔ اس موقع پر موبائل ٹی بی تشخیص اور آگاہی گاڑی کو بھی روانہ کیا گیا۔تقریب میں رکن اسمبلی ترہگام میر سیف اللہ، آئی جی پی کشمیر وی کے بردی، ڈپٹی کمشنر کپواڑہ شری کانت بالا صاحب سمیت متعدد اعلیٰ افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کپواڑہ کے ترہگام کا دورہ، متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد