عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر پولیس نے وادیٔ کشمیر میں مساجد سے متعلق ایک بڑے پیمانے پر معلومات جمع کرنے کی مشق شروع کی ہے، جس میں مساجد کے ائمہ، مؤذنین، انتظامی کمیٹیوں کے اراکین اور فلاحی شعبوں سے وابستہ افراد کا ڈیٹا شامل ہے۔ یہ بات’دی انڈین ایکسپریس‘کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس مشق کے تحت مساجد کے تعمیراتی لاگت، ماہانہ بجٹ اور فنڈنگ کے ذرائع جیسی دیگر تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی اداروں سے وابستہ افراد کی ذاتی معلومات بھی مانگی گئی ہیں، جن میں موبائل فون کے ماڈلز، آئی ایم ای آئی نمبرز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈز، راشن کارڈز اور کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کے کئی حصوں میں چار صفحات پر مشتمل ایک فارم گردش میں ہے، جس میں ایک صفحہ مسجد سے متعلق معلومات کے لیے جبکہ تین صفحات مسجد کے منتظمین یا خادمین کی ذاتی تفصیلات کے لیے مختص ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس اس پیمانے پر مساجد اور ان سے وابستہ افراد کا ڈیٹا جمع کر رہی ہے۔ فارم میں مسجد کے مسلک (بریلوی، حنفی، دیوبندی یا اہلِ حدیث) کی نشاندہی کے علاوہ عمارت کی ساخت، منزلوں کی تعداد، تخمینی تعمیراتی لاگت اور فنڈنگ کے ذرائع کی تفصیل بھی طلب کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ماہانہ بجٹ، بینک اکاؤنٹس، انتظامی ڈھانچے اور مسجد کی زمین کی نوعیت سے متعلق معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے اراکین، ائمہ، مؤذنین، خطیبوں اور بیت المال کے اراکین کی مکمل خاندانی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، جن میں تاریخِ پیدائش، فون نمبرز، ای میل پتے اور تعلیمی قابلیت شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق افراد سے پاسپورٹ کی تفصیلات، سفری تاریخ، بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں کی معلومات، ووٹر آئی ڈی، آدھار، ڈرائیونگ لائسنس، راشن کارڈ، بینک اکاؤنٹس، پین نمبر، اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ فارم میں ماہانہ آمدنی و اخراجات، جائیداد کی ملکیت اور اس کی تخمینی مالیت، ماضی میں عسکریت پسندی یا مجرمانہ سرگرمیوں میں مبینہ شمولیت، سوشل میڈیا موجودگی اور استعمال ہونے والی موبائل ایپس سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ والدین، بہن بھائیوں اور بچوں سمیت خاندانی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس مشق نے وادی میں کئی لوگوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور بعض افراد نے اسے مذہبی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔ اگرچہ پولیس نے اس سروے کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی، تاہم رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ مشق کچھ عرصے سے جاری ہے اور افسران کو بھرے ہوئے فارم جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کشمیر بھر میں مساجد اور علما سے متعلق تفصیلی معلومات طلب، جموں کشمیر پولیس کی وسیع مشق: رپورٹ