عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اکنامک آفنسز ونگ (EOW) کشمیر نے ایک جعلی بین الاقوامی انعامی رقم فراڈ کیس میں ملوث دو افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ اس فراڈ کے ذریعے سرینگر کے ایک رہائشی کو فون کالز اور ای میلز کے ذریعے 2.35 کروڑ روپے اور ایک لگژری کار کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے سے محروم کیا گیا۔
جاری ایک بیان میں ای او ڈبلیو کشمیر نے بتایا کہ کیس ایف آئی آر نمبر 24/2017، دفعہ 420 آر پی سی بمعہ دفعہ 66(d) آئی ٹی ایکٹ کے تحت دو ملزمان کے خلاف معزز عدالت سٹی منصف، سرینگر میں چارج شیٹ پیش کی گئی ہے، جس میں ان کی انعامی رقم فراڈ میں شمولیت ثابت ہوئی ہے۔
بیان کے مطابق، تحقیقات کا آغاز ایک شکایت موصول ہونے پر کیا گیا، جس میں شکایت کنندہ نے بتایا کہ اسے ایک جعلی فون کال موصول ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نے ایم/ایس شیورلیٹ موٹرز پروموشن لمیٹڈ، یو کے کی جانب سے 2.35 کروڑ روپے اور ایک کار کا انعام جیتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ انعام حاصل کرنے کے لیے شکایت کنندہ کو ایک ای میل آئی ڈی [[email protected]](mailto:[email protected]) کے ذریعے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بعد ازاں ای میل کے ذریعے اسے جتو راج جوہری کے نام سے اسٹیٹ بینک آف انڈیا، سرائے خواجہ برانچ میں قائم ایک بینک اکاؤنٹ میں کسٹمز ڈیوٹی کے طور پر رقم جمع کرانے کو کہا گیا۔
مزید کہا گیا کہ رقم جمع کرانے کے بعد شکایت کنندہ کو ایک اور ای میل موصول ہوئی جس میں اسے رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ میں اکاؤنٹ کھلوانے اور این ایس جی ایجنسی کے ذریعے ٹرانسفر چارجز (COT) کے نام پر مزید رقم جمع کرانے کی ہدایت دی گئی۔ شکایت کنندہ نے مختلف ذرائع سے رقم کا انتظام کر کے ہدایات کے مطابق رقم جمع کرائی، تاہم اس کے اکاؤنٹ میں کوئی انعامی رقم منتقل نہیں کی گئی۔ فون کرنے والا شخص خود کو “فرینک بین” ظاہر کرتا رہا اور [[email protected]](mailto:[email protected]) ای میل آئی ڈی کے ذریعے شکایت کنندہ کو گمراہ کرتا رہا۔
بیان کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ جتو راج جوہری ولد آنند کمار جوہری، ساکن مکان نمبر A-71، دوسری منزل، اشوکا انکلیو، سیکٹر-37، امر نگر، فرید آباد (ہریانہ) اور سریش ٹھاکر ولد رمیش ٹھاکر، ساکن مکان نمبر 63، اکھاڑا گھاٹ گیرومیل، مظفرآباد اور حال مقیم مکان نمبر 58، این بلاک، جے جے کالونی، شکور پور، دہلی، اس جرم میں سرگرم طور پر ملوث تھے اور انہوں نے دھوکہ دہی کے ذریعے شکایت کنندہ سے لاکھوں روپے ہتھیا لیے۔
بیان میں کہا گیا کہ زبانی، دستاویزی اور معاون شواہد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت جرم ثابت ہو گیا ہے۔ چنانچہ کیس ثابت ہونے کے بعد چارج شیٹ مجاز عدالت میں عدالتی کارروائی کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔