عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/اتراکھنڈ کے دہرادون میں 18 سالہ کشمیری شال فروش پر ہجوم کے حملے کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی ردعمل کے بیچ، دہرادون پولیس نے واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایک اور حملہ آور کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔دہرادون پولیس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا، مذکورہ معاملے میں پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وکاس نگر پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی دفعہ 117(2)/352 کے تحت کیس نمبر 26/2026 درج کیا ہے۔ اس معاملے میں سنجے یادو اور ایک دیگر شخص کو نامزد کیا گیا ہے۔ ملزم سنجے یادو کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
اس واقعے کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرتے ہوئے جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ناصر کہوہامی نے ایکس پر لکھا کہ یہ نوجوان اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اتراکھنڈ کے وکاس نگر علاقے میں شالیں فروخت کر رہا تھا، جہاں اس پر ’’شدت پسند عناصر‘‘نے وحشیانہ حملہ کیا۔انہوں نے لکھااسے ایک گروہ نے بری طرح پیٹا، جسم پر جگہ جگہ زخم آئے، بایاں بازو فریکچر ہو گیا اور لوہے کی سلاخوں سے وار کیے جانے کے باعث سر پر سنگین چوٹیں آئیں۔ پہلے اسے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں دہرادون کے دون اسپتال ریفر کیا گیا۔ حملے کے بعد اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔
ناصر کہوہامی کے مطابق لواحقین نے بتایا کہ پہلے اس کی شناخت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ جیسے ہی معلوم ہوا کہ خاندان مسلمان ہے اور کشمیر سے تعلق رکھتا ہے، تشدد میں شدت آ گئی۔ لڑکے کو بار بار گھونسے مارے گئے جبکہ دیگر اہلِ خانہ کو گھسیٹا گیا، تھپڑ مارے گئے اور نوکیلی لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا گیا۔
اتراکھنڈ میں کشمیری شال فروش پر تشدد، دہرادون پولیس نے مرکزی ملزم گرفتار کر لیا