عظمیٰ ویب ڈیسک
چنڈی گڑھ/پنجاب اور ہریانہ کی راجدھانی چنڈی گڑھ میں حال ہی میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں نے انتظامیہ اور والدین کی تشویش بڑھا دی ہے۔ شہر کے تقریباً 30 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد سکیورٹی ایجنسیاں متحرک ہو گئی ہیں۔ تاہم پولیس اب تک دھمکی دینے والوں تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ اس واقعے کے بعد پنجاب و ہریانہ سکریٹریٹ کو بھی اڑانے کی دھمکی مل چکی ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ بڑھتے خطرات اور سائبر ذرائع سے ملنے والی دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے چنڈی گڑھ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (سی سی پی سی آر) نے اسکولوں کے لیے ایک اہم ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ اس ہدایت نامے میں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اسکول احاطوں میں سخت نگرانی نظام کے بندوبست کی ہدایت دی گئی ہیں۔ سی سی پی سی آر نے واضح کیا ہے کہ شناخت اور تصدیق کے بغیر کسی بھی غیر متعلق شخص کو اسکول احاطے میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی مشتبہ شے یا سرگرمی کی فوری جانچ کرکے متعلقہ ایجنسیوں کو اطلاع دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کمیشن نے خاص طور پر سالانہ پروگراموں، تقاریب اور بھیڑ بھاڑ والے مواقع کے دوران میٹل ڈیٹیکٹر اور دیگر جدید حفاظتی آلات کے استعمال کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی دھمکی آمیز ای میل، فِشنگ لنک یا وِشنگ کال کی فوری اطلاع مقامی پولیس اور سائبر کرائم پولیس اسٹیشن کو دی جائے۔ ہدایت نامےمیں اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور حفاظتی عملے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام منعقد کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردِ عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
چنڈی گڑھ :30 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد سی سی پی سی آر الرٹ