عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے بدھ کے روز بارہمولہ سے رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشیدکی عبوری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنے علیل والد سے ملاقات کے لیے عارضی رہائی کی درخواست دائر کی تھی، جو اس وقت وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید، جو اس وقت حراست میں ہیں، نے طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ درخواست کی سماعت کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ ایجنسی نے مؤقف اختیار کیا کہ عبوری ضمانت نہیں دی جانی چاہیے، تاہم حراستی پیرول پر غور کیا جا سکتا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے تمام دلائل ریکارڈ پر لے لیے اور فیصلہ محفوظ کر لیا۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں فیصلہ سنانے کے لیے 24 اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ بارہمولہ کی نمائندگی کرنے والے انجینئر رشید ایک این آئی اے کیس کے سلسلے میں زیرِ حراست ہیں۔ ان کے وکلا نے مؤقف پیش کیا کہ انہیں اپنے والد کی تشویشناک حالت کے پیش نظر فوری طور پر ان سے ملنے کی اجازت دی جائے، جبکہ استغاثہ نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اس کی مخالفت برقرار رکھی۔
رُکن پارلیمان بارہمولہ انجینئر رشید کی عبوری ضمانت پر فیصلہ محفوظ