عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر بدھ کی شب گریٹر کیلاش جموں میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے فائرنگ کے واقعے کی جموں و کشمیر بی جے پی نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو تشدد کے ذریعے نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور اس واقعے کی ’شفاف اور جامع تحقیق‘ انتہائی ضروری ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس وقت بال بال بچے جب ایک شخص نے ان پر پیچھے سے فائرنگ کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی نے کسی بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ اس وقت نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری اور وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے حملہ آور کی شناخت 63 سالہ کمل سنگھ جموال ساکن پرانی منڈی جموں کے طور پر ہوئی ہے۔ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کا موقع تلاش کر رہا تھا۔
جموں و کشمیر بی جے پی میٹنگ کے دوران پارٹی لیڈروں نے واقعے پر شدید تشویش ظاہر کی۔ پارٹی ترجمان ایڈووکیٹ سنیل سیٹھی نے کہا کہ تشدد جمہوری معاشرے میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا، ’سیاسی اختلافات کو صرف بات چیت اور آئینی ذرائع سے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ بی جے پی ایسے واقعات کی سخت مخالفت کرتی ہے اور کسی بھی ایسے عمل کی حمایت نہیں جو امن اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں صحت مند سیاسی ماحول کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانا جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے۔
سیٹھی نے کہا کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ان تمام حالات کو سامنے لایا جائے جن کے نتیجے میں حملہ ہوا۔
بی جے پی ترجمان طاہر چودھری نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں خوف اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی کو سراہا۔
بی جے پی ایم ایل اے وِکرم رندھاوا نے فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ جا کر ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں ہمیشہ امن کا گہوارہ رہا ہے اور ایسی کارروائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا، ’یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ واقعہ ایک نجی تقریب میں پیش آیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا، لیکن سکیورٹی اداروں کو آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور بار بار متضاد بیانات دے رہا ہے، اس لیے اس کے اصل مقصد اور محرکات کی گہرائی سے تحقیقات کی ضرورت ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ معاملے کی پوری طرح تفتیش جاری ہے اور بہت جلد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
ڈاکٹرفاروق عبداللہ پر حملہ قابلِ مذمت، سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار کے منافی: بی جے پی