سمت بھارگو
راجوری/پونچھ// خطہ پیر پنچال کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں حالیہ موسلا دھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دونوں اضلاع میں اب تک 25افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں رہائشی مکانات، سڑکیں، پل، زرعی اراضی اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ضلع پونچھ میں سب سے المناک واقعہ تحصیل منڈی کے نندی چول علاقے کے ڈھوک دومیل میں پیش آیا، جہاں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ایک کچا مکان ملبے تلے دب گیا۔ اس افسوسناک حادثے میں ایک ہی خاندان سمیت سات افراد جاں بحق ہوگئے۔جاں بحق ہونے والوں میں تنویر احمد (27)، زاہدہ بیگم (38)، شمیم اختر (33)، شبنم بانو (31)، محمد عرفان (17)، منان رفیق (6) اور الیسا (4) شامل ہیں۔
تمام متوفیان محلہ اریگم لورن کے رہائشی تھے۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو غم میں ڈبو دیا ہے اور ہر طرف سوگ کی فضا قائم ہے۔اس سے قبل اتوار کے روز پونچھ کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث چار مختلف مقامات پر 15 افراد ملبے میں پھنس گئے تھے۔ ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، بھارتی فوج اور مقامی رضاکار مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔سرکاری اطلاعات کے مطابق ضلع پونچھ میں اب تک 22 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں سے 14 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ 6 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ دو مسخ شدہ لاشیں بھی ملی ہیں، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سیلابی متاثرین کی ہیں۔ ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جس کے بعد ہی حتمی تصدیق ممکن ہو سکے گی۔ضلع راجوری میں بھی سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے۔ پیر کے روز مزید دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد ضلع میں جاں بحق افراد کی تعداد تین ہو گئی ہے۔اس سے قبل پنکی دیوی کی لاش برآمد ہوئی تھی، جبکہ پیر کو راجوری شہر کی ملک مارکیٹ سے لاپتہ ہونے والے دو نوجوانوں وقاص احمد اور جاوید احمد کی لاشیں بھی مختلف مقامات سے برآمد کر لی گئیں۔وقاص احمد کی لاش صبح کے وقت دریائے سلانی کے سلانی پل کے قریب سے ملی، جبکہ جاوید احمد کی لاش نوشہرہ کے مقام پر دریا کے وسط میں ایک بڑی چٹان پر پھنسی ہوئی دیکھی گئی تھی۔ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے اتوار کو لاش نکالنا ممکن نہ ہو سکا، تاہم پیر کے روز بھارتی فوج نے ہیلی کاپٹر کی مدد سے کامیاب ریسکیو آپریشن انجام دیتے ہوئے لاش کو باہر نکال لیا۔ادھر محکمہ جل شکتی کے ملازم عبدالغنی ولد محمد رفیق اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش کے لیے پولیس، ایس ڈی آر ایف اور دیگر امدادی اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی کا کام تیز کر دیا ہے، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خراب موسمی حالات کے دوران دریاؤں، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں سے دور رہیں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔