محمد اشرف بن سلام
اس وادیٔ کشمیر کی دنیا بھر میں ایک الگ اور منفرد پہچان ہے ،کیونکہ یہاں پر موجود سینکڑوں بلند پایہ روحانی بزرگوں کی درگاہیں اور عبادت گاہیں اس بات کی عکاس ہے کہ کشمیر اولیا ءکرام کی سر زمین ہیںاور صوفیائے کرام کا رول برصغیر کی تاریخ میںبڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔آٹھویںصدی ہجری میں جو سادات واردِ کشمیر ہوئے، اُن میں سے کچھ نے یہاں پر مستقل سکونت اختیار کی۔ اُنہیں میں سید میر شمش الدین شامیؒ شامل ہیں، جن کی ذریت آج بھی کشمیرمیں حقانی نام سے معروف ہے۔ اسی خاندان کا بلندپایہ ولی کامل ،عالم، ادیب ، مفکر اور مورخ میر سید عزیز اللہ حقانی ؒ ہیں، جنہوں نےاپنی پوری زندگی علم و تحقیق کی جستجو اور تحقیقات میں صرف کی ۔اس ممتاز روحانی پیشوا اور عظیم نعت گو شاعرکی ولادت ایک انتہائی روحانی اور صوفی گھرانے میں ۱۱ ربیع الثانی 1287ہجری مطابق 1861ءکو ہوئی ۔ حضرت حقانی قدس سرہ کی جامع اور مثالی شخصیت کی تشکیل میں اُن کے آباو اجداد کی روحانی تربیت کااہم اور بنیادی کردار رہا ہے۔ حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی کشمیر کے صوفیا ءکرام اور علمی شخصیات میں ایک انتہائی بلند مقام اور نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی خدمات، روحانی مقام اور علمی بصیرت تاریخ کشمیر کا ایک روشن باب ہیں۔حضرت حقانی قدس سرہ اپنے زمانے کے جید عالم دین اور بلند پایہ صوفی بزرگ تھے۔ آپ ؒ کی تعلیمات نے لوگوں کے قلوب کو منور کیا اور اسلامی اقدار کو فروغ دیا،انہوں نے قرآن و سنت کی گہری سمجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ تصوف کے اسرار و رموز سے لوگوں کو روشناس کرایا۔اُن کا کلام روحانیت، عشقِ رسولؐ اور اخلاقی درس سے بھرپور ہے،جو آج بھی لوگوں میں مقبول ہےاور آج بھی لوگ روحانی سکون کے لیے آپؒ کاعارفانہ کلام سُن کر سکون قلب حاصل کرتے ہیں۔آپ ؒکی پوری زندگی اسلام کی حقیقی تعلیمات اور سنت نبویؐ کے علاوہ روحانی تربیت، انسان دوستی اور اخوت کے درس میں گزری ۔اُن کا بنیادی مقصد لوگوں کو ظاہری رسومات اور بے مقصد اُلجھنوں سے نکال کر باطنی پاکیزگی ، ر وحانی بیداری اور اخلاصِ کی راہ دکھانا رہا اور اپنے کردار اور عمل سے لوگوں میں روحانی سکون و محبت کاچراغ روشن رکھنا تھا۔ حضرت حقانی ؒجیسی عظیم ہستیوں کا فیضان اور ان کی تعلیمات آج بھی لوگوں کے دلوں کو منور کرنے اور روحانی سکون پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان کی زندگی اخلاص، سادگی اور روحانی بیداری کا ایک روشن مینار ہے۔ایسے ہی صوفیاءکرام اور بزرگانِ دین کی تعلیمات کی بدولت معاشرے میں محبت، اخوت اور روحانی سکون کی شمع جلتی رہتی ہیں۔
حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی ؒکشمیر کے ایک عظیم المرتبت صوفی بزرگ، تاریخ دان، اور ممتاز کشمیری نعت گو شاعر تھے۔ آپ ؒکے جدا مجد حضرت میر شمس الدین شامی ؒ جو حضرت امیر کبیر میر سید ہمدانی ؒ کے ہمراہ کشمیر آئے اور یہیں سکونت پذیر ہوگئے ۔ حضرت حقانیؒ کا شجرہ نسب حضرت علی المرتضی ؓ سے ملتا ہےاور سلسلہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کے مشہور روحانی بزرگ تھے۔آپؒ فارسی ، عربی اور کشمیری زبانوں پر یکساں دسترس رکھتے تھے۔ان تمام زبانوں میں انہوں نے اشعار کہے ہیں۔
آپؒ کا معروف و مقبول نعت’’ گوجہاں تازہ بہ رُخساررسول عربی ؐ۔ روٹ گلو مشک ز گفتار رسول عربی عربیؐ‘‘ زبان ِ زد عام ہے۔
حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی کشمیر کے عظیم نعت گو شعر ا ءمیں شمار کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کشمیر ی کے علاوہ فارسی میں بھی نعوت تحریر فرمائے ہیں۔ ان کے کشمیری زبان میں تحریر کردہ نعوت ان کی مثنویوں جیسے ممتازبے نظیر ،جوہر عشق، گلدستہ بے نظیرمیں ملتے ہیں۔ حضرت حقانی ؒ کے علاوہ کشمیر کے صوفی شاعر ،دوست خدا، اولیاءِ کرام اور نعت گو شاعر محض صرف روحانی پیشوا ہی نہیں تھے بلکہ اپنے دور کے جامع العلوم تھے۔ ان کی علمی وسعت اتنی ہمہ گیر تھی کہ انہوں نے مذہب، فلسفہ، تصوف کے علاوہ تاریخ اور طب جیسے علوم میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی ؒ کی شاعرانہ عظمت اور احترام کی یہ کیفیت ہے کہ دور حاضر کے کشمیری زبان کے بلند پایہ نقاد آج تک لکھتے ہیں ۔آپؒ فقط ایک علمی و روحانی خاندان کا فرد ہونے کی بنا پر ہی مقبول و ممتاز نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے خود اس علمی میراث میں پختگی حاصل کی ۔ حضرت حقانی ؒ کا شمار ان صاحب علم لوگوں میں ہوتا تھا جنہوںنے محض کتابوں کی اوراق گردانی نہیں کی بلکہ ان کتابوں کو پڑھنے کا حق ادا کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ آپؒ کو فلسفہ و منطق اوراصول فقہ و حدیث کے تمام قوانین و ضوابط پر دسترس حاصل تھی۔آپ ؒاہل دل واہل وجد تھے، ایک عاشق ،ایک محقق ،ایک مورخ اور ایک عالم تھے۔ آپ کی کئی تصانیف نے شہرت ،مقبولیت کی بلندیوں کو چھوااورآپؒکی نعتیہ شاعری روایتی طریقہ سے ہٹ کر سیرت ِ طیبہ کے مختلف پہلووں کو اُجاگر کرتی ہے۔
حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی کی حیات زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ معروف روحانی علمی خانوادے کے ساتھ نسبی تعلق ہونے کے علاوہ ان کی زندگی کے خزانے میں تمام جواہر پوری آن بان اور تب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ علوم دینی و دنیوی کی گہرائی، فکری وذہنی صلاحیت، فقیہانہ بصیرت، عالمانہ تجربہ اور عشق رسولؐسبھی کچھ ان کے دامن میں موجودہے۔ اُن کی کلام میں جامی، خسرو اور حا فظ کا رنگ نمایاں ہونے کے ساتھ ساتھ باطنی پاکیزگی اور اللہ کی محبت کے وہ تمام عناصر موجود ہیں جو صوفیاءکا خاصہ ہیں۔ ان کی نعتیں دل کو گناہوں کی آلائشوں سے پاک کر کے روحانی سکون بخشتی ہیں۔
موت کا سامنا دیر سودیر ہر ذی نفس کو کرنا ہے،البتہ کچھ افراد اس عارضی دنیا کو دائمی خیر بادکہنے کے باوجود اپنے نیک کار ناموں اور اعمال صالحہ کی وجہ سے زندہ جاوید رہتے ہیں۔ انہی میں یہ اعلیٰ رتبے کے رہنما اور خاندان حقانیہ کاعظم المرتب بزرگ حضرت میر سید عریز اللہ حقانی 14ذوالحجہ 1346ہجری کو ایک مرد مومن کی طرح’’ چوں مرگ آید تبسم برلب اوست ‘‘کی تصویر بنے اپنے مالک حقیقی سے جاملےاور نرپرستان فتح کدل سرینگر میں اپنے بزرگوار شاہ قاسم حقانی ؒ کے مزار میں آسودہ ہوئے ہیں۔
رابطہ۔9419500008